مغربی بنگال میں بھی ’یو سی سی‘ نافذ کرنے کی تیاری، عوام سے مشورہ لینے کی تجویز!

Wait 5 sec.

مغربی بنگال حکومت بھی اتراکھنڈ حکومت کی طرح یونیفارم سول کوڈ یعنی ’یو سی سی‘ نافذ کرنے کی سمت میں آگے بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ مجوزہ قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ریاست کی یو سی سی کمیٹی کی پہلی میٹنگ 3 ستمبر کو دہلی واقع مغربی بنگال ریاستی گیسٹ ہاؤس میں ہوئی۔ میٹنگ میں مغربی بنگال کے لیے یکساں سول کوڈ کے خاکہ اور اس کے نفاذ کی مکمل صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی اب اس عمل میں عام لوگوں کی رائے اور تجاویز بھی شامل کرے گی۔ اس کے لیے جلد ہی ایک ویب سائٹ تیار کی جائے گی اور ای میل کے ذریعہ بھی لوگوں سے تجاویز طلب کی جائیں گی۔ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تجویز کو عوامی نمائندگی یعنی عام لوگوں سے موصول ہونے والی تجاویز اور اعتراضات کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔بتایا جا رہا ہے کہ عوامی شراکت داری سے متعلق یو سی سی کمیٹی رواں ماہ اخبارات میں اشتہار جاری کرنے والی ہے۔ اس اشتہار کے ذریعہ لوگوں سے تجاویز طلب کی جائیں گی۔ تجاویز دینے کے لیے لوگوں کو ایک مقررہ مدت دی جائے گی۔ لوگ اپنی تجاویز کمیٹی کی ویب سائٹ اور مقررہ ای میل کے ذریعہ بھیج سکیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اس پورے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ مغربی بنگال میں یو سی سی کو حتمی شکل دینے سے پہلے عام لوگوں کی رائے لینے کا عمل جلد شروع ہونے والا ہے۔اطلاعات کے مطابق مغربی بنگال حکومت درج فہرست قبائل کو اس ضابطے کے دائرے سے باہر رکھے گی اور روایتی ثقافتی رسوم و رواج میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ مجوزہ یو سی سی کے تحت کم از کم 13 میریج ایکٹس کو ختم کر کے ان کی جگہ ایک ہی ایکٹ لایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی جانکاری ملی ہے کہ مجوزہ ضابطے کے تحت لیو اِن پارٹنر کے لیے اپنی شراکت داری کا رجسٹریشن کرانا ضروری ہوگا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ مجوزہ یو سی سی کے تحت ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس قانون میں شادی، طلاق، گزارہ بھتہ، تحویل اور جائیداد کی وراثت کے قوانین تمام برادریوں کے لیے یکساں کیے جا سکتے ہیں۔