چین اب یوٹیوب کو ٹکر دینے کی تیاری کر رہا ہے، چین کا مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ’بلی بلی‘ نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔چین کا مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم بلی بلی (Bilibili) اب عالمی سطح پر یوٹیوب کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان عمل میں آ گیا ہے۔آپ نے ٹک ٹاک یوٹیوب اور انسٹاگرام تو بہت استعمال کیا ہوگا کیا آپ نے کبھی بلی بلی کا نام سنا ہے؟ جی ہاں اب نیا پلیٹ فارم آپ کا منتظر ہے۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/09/Youtube-1.mp4یوٹیوب کے متبادل کے طور پر پہچانے جانے والے اس پلیٹ فارم کی جانب سے دنیا بھر کے کانٹینٹ کریئیٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بلی بلی چین کا دنیا میں تیزی سے بڑھتا ہوا ایک ویڈیو پلیٹ فارم ہے جس پر چین اب تک اربوں ڈالر انویسٹ کرچکا ہے۔نئی ایپ میں غیر ملکی صارفین کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان بنایا گیا ہے اور شناختی دستاویز کی تصدیق کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ PAREN TODO Bilibili (la plataforma china) está pagando casi un dólar por cada mil vistas.Sí, leíste bien.Mientras YouTube te da migajas, ellos andan ofreciendo reportes de $0.70 por 1.000 vistas y ya superaron los 370 millones de usuarios mensuales.Están abriendo… pic.twitter.com/jGODtZFDYM— El Dui (@elduuuui) August 25, 2026صارفین یوٹیوب کیوں چھوڑیں گے؟ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ یوٹیوب کو چھوڑ کر بلی بلی پر کیوں جائیں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کیونکہ یوٹیوب مونیٹائز پاکستان میں بھی ایکسس کیا جاسکتا ہے تاہم مکمل طور پر ایکسس کے لیے پاکستانی یو ٹیوبرز کو ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔اگر کرنسی کی بات کی جائے تو یوٹیوب جہاں کانٹنٹ تھیٹرز کو ڈالر پر بیسڈ ہے جسے پے آؤٹ کے وقت لوکل کرنسی میں کنورٹ کیا جاسکتا ہے اب سوال یہ ہے کیا یوٹیوب ہی ویڈیو کی دنیا کا اصل بادشاہ رہے گا یا یقیناً اس بادشاہت کو ختم کر دے گا؟