’راہل گاندھی انصاف ملنے تک نشو آزاد کے ساتھ کھڑے ہیں‘، کانگریس نے سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری کا کیا مطالبہ

Wait 5 sec.

’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے اندر سوتنتر بھاردواج کی گرفتاری ہو اور اسے جیل میں ڈالا جائے۔ کانگریس اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی انصاف ملنے تک پوری طاقت سے نشو آزاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ یہ بیان مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس پریس کانفرنس میں الکا لامبا نے کئی خواتین کا نام سامنے رکھ کر ان پر ہو رہے ظلم کو بیان کیا اور مرکز کی مودی حکومت کو ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔हम मांग करते हैं कि 24 घंटे के अंदर स्वतंत्र भारद्वाज की गिरफ्तारी हो और उसे जेल में डाला जाए।भारतीय राष्ट्रीय कांग्रेस और नेता विपक्ष राहुल गांधी जी निशु आजाद के साथ न्याय मिलने तक पूरी ताकत के साथ खड़े हैं।: महिला कांग्रेस अध्यक्ष @LambaAlka जी दिल्ली pic.twitter.com/ZcncnfQCyB— Congress (@INCIndia) September 4, 2026میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’میں آج آپ کے سامنے ملک کی کچھ بیٹیوں کا ذکر کروں گی... نشو آزاد، شاہین خان و نفیسہ خان، آکرتی چودھری، روچیکا سنگھ۔‘‘ وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’نشو آزاد اسکول میں پڑھتی ہیں اور دلت سماج کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔ نشو نے جنتر منتر کی تحریک میں حصہ لیا اور جمہوری طریقوں سے اپنی بات رکھی، جہاں بی جے پی رائٹ وِنگ کے پُرتشدد لوگوں نے ان کے والد سے مار پیٹ کی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’مار پیٹ کرنے والے کا نام ہے سوتنتر بھاردواج، جس کا بڑے بڑے چینلز انٹرویو کر رہے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں سوتنتر بھاردواج بڑی ہی بے شرمی سے اپنے ظلم کے قصے سنا رہا ہے۔ دلت سماج کے لیے ہتک آمیز الفاظ کا استعمال کر رہا ہے، لیکن اس کے خلاف کسی دفعہ میں کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔‘‘मैं आज आपके सामने देश की कुछ बेटियों का जिक्र करूंगी। 1. निशु आजाद2. शाहीन खान और नफीसा खान3. आकृति चौधरी4. रुचिका सिंहनिशु आजाद स्कूल में पढ़ती हैं और दलित समाज के अधिकारों के लिए आवाज उठाती हैं।निशु ने जंतर-मंतर के आंदोलन में हिस्सा लिया और लोकतांत्रिक तरीकों से अपनी… pic.twitter.com/izViTrpYk4— Congress (@INCIndia) September 4, 2026سوتنتر بھاردواج کے عمل پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’آپ سوتنتر بھاردواج کی ویڈیو سنیے اور سوچیے، کھلے اسٹیج سے اتنا سب کہنے کے بعد بھی دہلی پولیس نے صرف ایک معمولی ایف آئی آر درج کی، لیکن اسے گرفتار نہیں کیا۔ جبکہ اس معاملہ میں قتل کی کوشش کی دفعہ لگنی چاہیے تھی، لیکن یہ دفعہ نہیں لگائی گئی۔‘‘ کانگریس کا کہنا ہے کہ سوتنتر بھاردواج نے اپنی ویڈیو میں یہ بھی بتایا ہے کہ اس کا کن بڑے لیڈران سے رابطہ ہے اور اسے کن لوگوں کا تحفظ حاصل ہے۔ اس نے اپنی ویڈیو مین دہلی کے وزیر کپل مشرا اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان تک کا ذکر کیا ہے۔ سوتنتر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی نشو آزاد نے حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سے انصاف دلانے کا مطالبہ کیا۔आप स्वतंत्र भारद्वाज का वीडियो सुनिए और सोचिए... खुले मंच से इतना सब कहने के बाद भी दिल्ली पुलिस ने सिर्फ एक मामूली FIR दर्ज की, लेकिन उसे गिरफ्तार नहीं किया।जबकि इस मामले में हत्या के प्रयास की धारा लगनी चाहिए थी, लेकिन यह धारा नहीं लगाई गई।स्वतंत्र भारद्वाज ने वीडियो में… pic.twitter.com/ZHi04Y3s6w— Congress (@INCIndia) September 4, 2026شاہین خان اور نفیسہ خان کا ذکر کرتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’خاتون صحافی شاہین اور نفیسہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ بے حد شرمناک ہے۔ وہ وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال پوچھنا چاہتی تھیں۔ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ 15 سال کی بچی تنوی کو علاج کیوں نہیں ملا جو دہلی ایمس میں اس کی موت ہوئی؟ وزیر داخلہ ایمس جانے کی جگہ پرائیویٹ اسپتال کے افتتاح میں کیوں مصروف تھے؟ کچھ دن قبل ایک چلتی بس میں نابالغ بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوئی تو خواتین و بچیوں کی سیکورٹی پر حکومت کب جواب دے گی؟‘‘ وہ کہتی ہیں کہ اس طرح کے سوالات پوچھنے کے بعد خاتون صحافیوں کے ساتھ پولیس نے مار پیٹ کی، جس سے ان کے جسم پر گہرے زخم ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میرا مطالبہ ہے کہ اس حادثہ میں شامل پولیس اہلکاروں پر کارروائی ہو اور انھیں فوراً معطل کیا جائے۔ ساتھ ہی دہلی حکومت واقعہ سے جڑے سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لائے۔‘‘महिला पत्रकार शाहीन खान और नफीसा खान के साथ जो हुआ, वह बेहद शर्मनाक है। वे गृह मंत्री अमित शाह, मुख्यमंत्री रेखा गुप्ता से सवाल पूछना चाहती थीं कि ⦿ 15 साल की बच्ची तन्वी ने इलाज के अभाव में दिल्ली AIIMS में दम क्यों तोड़ा? ⦿ गृह मंत्री जी AIIMS जाने के बजाय निजी… pic.twitter.com/EwhhS6DJoZ— Congress (@INCIndia) September 4, 2026ایک دیگر معاملہ میں مہیلا کانگریس صدر نے کہا کہ ’’دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اور سماجی کارکن آکرتی چودھری نے نوئیڈا میں مزدور تحریک کو کچلنے کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ نوئیڈا ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم نے اس تحریک کو کچل دیا اور جن لوگوں نے مزدوروں کو حمایت دی، انھیں این ایس اے لگا کر جیل بھیج دیا۔ انہی لوگوں میں آکرتی چودھری بھی شامل ہیں، جو 5 ماہ سے جیل میں بند ہیں۔ لیکن اب اس معاملہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے این ایس اے منسوخ کر دیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ہائی کورٹ نے کہا کہ انتظامیہ ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر پایا، جس سے پتہ چلتا ہو کہ آکرتی قصوروار ہے۔ اس معاملہ میں عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کی تنخواہ سے آکرتی چودھری کو 5 لاکھ کا معاوضہ دیا جائے۔‘‘दिल्ली यूनिवर्सिटी की स्टूडेंट और एक्टिविस्ट आकृति चौधरी ने नोएडा में मजदूर आंदोलन को कुचलने के खिलाफ आवाज बुलंद की थी।नोएडा DM मेधा रूपम ने यह आंदोलन कुचला और जिन लोगों ने मजदूरों को समर्थन दिया, उन्हें NSA लगाकर जेल भेज दिया।इन्हीं में आकृति चौधरी भी शामिल हैं, जो 5 महीने… pic.twitter.com/WtL6cIqso8— Congress (@INCIndia) September 4, 2026الکا لامبا نے 15 سالہ روچیکا سنگھ سے جڑے معاملہ پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جنتر منتر کے مظاہرہ میں شامل ہوئی 15 سالہ روچیکا کا بی جے پی کے لوگوں نے جینا حرام کر دیا ہے۔ آج روچیکا کہہ رہی ہے– مودی جی، آپ نے میری زندگی جہنم بنا دی ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے روچیکا کا درد سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اگر 15 سالہ بچی اپنے ساتھ ہوئے سلوک کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے تو اس کی آواز دبانے کی جگہ اس کی بات سنی جانی چاہیے۔ اس لیے کانگریس پارٹی نے طے کیا ہے کہ ہم ان تمام بیٹیوں کو انصاف دلانے تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔‘‘जंतर-मंतर के प्रदर्शन में शामिल हुई 15 साल रुचिका का BJP के लोगों ने जीना हराम कर दिया है।रुचिका का कहना है- ''मोदी जी, आपने मेरी जिंदगी नरक बना दी है''अगर एक 15 साल की बच्ची अपने साथ हुए व्यवहार के खिलाफ आवाज उठा रही है, तो उसकी आवाज दबाने के बजाय उसकी बात सुनी जानी चाहिए।… pic.twitter.com/ejL98WfsfE— Congress (@INCIndia) September 4, 2026الکا لامبا نے نشو آزاد، شاہین خان و نفیسہ خان، آکرتی چودھری اور روچیکا سنگھ سبھی کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کانگریس اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان سبھی کے لیے آواز اٹھائے گی۔ مہیلا کانگریس صدر نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’اگر انھیں کسی بھی طرح کی معاشی یا قانونی مدد کی ضرورت ہوگی تو کانگریس پارٹی ہر ممکن مدد کرے گی۔‘‘