’نریندر مودی کا فنڈا صاف ہے– نہ پڑھے گا انڈیا، نہ سوال پوچھے گا انڈیا‘، روزانہ 13 اسکول بند ہونے پر کانگریس کا حملہ

Wait 5 sec.

اپوزیشن پارٹی کانگریس نے ملک میں بڑی تعداد میں اسکولوں کے بند ہونے کے اعداد و شمار سامنے رکھ کر مرکز کی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ ’اسکول بند کریں ہم‘ مودی حکومت کا مثالی جملہ (موٹو) بن گیا ہے۔کانگریس نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران ملک بھر میں 4,791 اسکول بند ہو گئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ ملک میں روزانہ اوسطاً تقریباً 13 اسکول بند ہوئے ہیں۔ کانگریس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان بند ہونے والے اسکولوں میں تقریباً نصف صرف مدھیہ پردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی بی جے پی حکمراں مدھیہ پردیش میں اسکول بند ہونے کی تعداد فکر انگیز سطح پر پہنچ چکی ہے۔کانگریس نے کہا کہ معاملہ صرف ایک سال تک محدود نہیں ہے، بلکہ گزشتہ 10 برس کے دوران ملک میں 94,000 سے زیادہ اسکولوں پر تالا لگ چکا ہے۔ پارٹی نے ان اعداد و شمار کو مودی حکومت کی تعلیمی پالیسی پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا اور الزام لگایا کہ حکومت کا ’ایجوکیشن ماڈل‘ ملک کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے اسے کمزور کر رہا ہے۔کانگریس نے اپنی پوسٹ میں مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کو ’اندھ بھکت‘ بنانے پر آمادہ ہے۔ پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیونکہ نریندر مودی کا فنڈا صاف ہے– نہ پڑھے گا انڈیا، نہ سوال پوچھے گا انڈیا۔‘‘ کانگریس کی جانب سے شیئر کردہ اس پوسٹ میں اسکولوں کے بند ہونے سے متعلق اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر حکومت کی تعلیمی ترجیحات پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اسکولوں کا بند ہونا ملک کے تعلیمی مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔