جی ڈی پی کے تازہ اعداد و شمار پر کانگریس کے سوالات، نئے تخمینہ کا طریقۂ کار عام کرنے کا مطالبہ

Wait 5 sec.

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کے لیے جاری کیے گئے 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے نئے قومی آمدنی تخمینہ کے مکمل طریقۂ کار اور اسے تیار کرنے کے عمل کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ نئے طریقۂ کار تیار کرتے وقت کن ماہرین اور اداروں سے مشاورت کی گئی اور مختلف اجزا کو شامل کرنے کی بنیاد کیا تھی۔جے رام رمیش نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کے لیے جاری 7.8 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو کے اعداد و شمار کئی سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس شرح نمو کے حساب میں استعمال کیے گئے اپریل تا جون 2025 کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں متعدد مرتبہ ترمیم کی گئی ہے۔جے رام رمیش کا دعویٰ ہے کہ اپریل تا جون 2025 کے لیے جی ڈی پی کا تخمینہ پہلے تقریباً 86 لاکھ کروڑ روپے تھا، جو نئی سیریز میں گھٹ کر تقریباً 80 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بنیادی سال کے اعداد و شمار میں اتنی بڑی کمی کیوں ہوئی اور اس تبدیلی نے موجودہ سہ ماہی کی شرح نمو کے حساب کو کس حد تک متاثر کیا۔کانگریس لیڈر نے سابق مرکزی مالیاتی سکریٹری سبھاش چندر گرگ کے حساب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پرانے بنیادی اعداد و شمار کو برقرار رکھا جاتا تو برائے نام جی ڈی پی کی نمو تقریباً 2.6 فیصد ہوتی، جبکہ حکومت نے برائے نام نمو 10.3 فیصد بتائی ہے۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پرانی اور نئی جی ڈی پی سیریز کے اعداد کو براہ راست ملا کر شرح نمو نکالنا درست تقابل نہیں ہے۔رمیش نے گزشتہ چار برس کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق نئی سیریز کے تحت مالی سال 2022-23 سے گزشتہ چار برس کے دوران برائے نام جی ڈی پی کے تخمینوں میں بڑی کمی ہوئی ہے اور مجموعی طور پر معیشت کے تخمینی حجم میں تقریباً 43 لاکھ کروڑ روپے کی کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ نئی طریقۂ کار میں ایسا کیا بدلا ہے جس کی وجہ سے معیشت کے اندازے میں اتنی بڑی تبدیلی آئی۔انہوں نے جی ڈی پی ڈیفلیٹر پر بھی سوال اٹھایا۔ رمیش کے مطابق اپریل تا جون کی سہ ماہی میں جی ڈی پی ڈیفلیٹر تقریباً 2.5 فیصد رہا، جبکہ اسی مدت میں خوردہ اور تھوک مہنگائی کے اعداد اس سے کہیں زیادہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فرق سے حقیقی جی ڈی پی نمو کے سرکاری اعداد اور معیشت میں قیمتوں کے حقیقی تجربے کے درمیان سوال پیدا ہوتے ہیں۔Our statement on the growing evidence of irregularities in the just-released GDP figures. The Modi Government must answer 4 straight questions pic.twitter.com/JTOcRPusXS— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 3, 2026حکومت نے تاہم جی ڈی پی ڈیفلیٹر کے کم ہونے کو اعداد و شمار میں تضاد قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ وزارت شماریات کے مطابق جی ڈی پی ڈیفلیٹر پوری معیشت میں اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں تبدیلی کو دیکھتا ہے، جبکہ صارف قیمت اشاریہ اور تھوک قیمت اشاریہ کے دائرۂ کار مختلف ہیں۔ نئی جی ڈی پی سیریز میں قیمتوں کے تعین کے لیے 300 سے زیادہ ڈیفلیٹر استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ پہلے یہ تعداد تقریباً 180 تھی۔رمیش نے مینوفیکچرنگ جی وی اے اور نجی کھپت کے اعداد و شمار پر بھی تشویش ظاہر کی اور سبھاش چندر گرگ کے حساب کا حوالہ دیتے ہوئے مینوفیکچرنگ جی وی اے میں 5.2 فیصد اور نجی کھپت میں 5.4 فیصد کمی کا دعویٰ کیا۔