پنچایت سے صدر جمہوریہ تک 280 سے زائد انتخابات لڑنے والے ’دھرتی پکڑ‘ کا 97 سال کی عمر میں انتقال

Wait 5 sec.

پنچایت سے لے کر صدر کے عہدے تک 280 سے زیادہ انتخابات لڑنے والے بہار واقع بھاگلپور باشندہ ناگرمل باجوریا عرف ’دھرتی پکڑ‘ کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے 3 ستمبر کو پٹنہ میں 96 سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ اگرچہ انتخابی میدان میں انہیں ہر بار اپنے حریفوں سے شکست ملی، لیکن انہوں نے کبھی دل سے ہار نہیں مانی۔ زندگی کی آخری منزل تک انتخابات لڑنے کا ان کا حوصلہ برقرار رہا۔ جمعہ کو بھاگلپور کے براری واقع شمشان گھاٹ پر ان کی آخری رسومات ادا کی گئی۔ناگرمل باجوریا نے اپنے طویل انتخابی سفر کے دوران کئی بڑے سیاسی چہروں کے خلاف انتخابات لڑے۔ انہوں نے پہلی بار 1969 میں سابق صدر وی وی گری کے خلاف انتخابی پرچہ داخل کیا تھا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے خلاف رائے بریلی سے اور راجیو گاندھی کے خلاف امیٹھی سے بھی انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کی تھی۔ ان انتخابات میں اترنے کے بعد انہوں نے ملک بھر میں سرخیاں بٹوری تھیں۔ 2012 میں ناگرمل باجوریا نے صدارتی انتخاب میں بھی اپنی دعویداری پیش کی تھی۔ انہوں نے پرنب مکھرجی کے خلاف صدر عہدے کے انتخاب کے لیے نامزدگی کا پرچہ داخل کیا تھا۔ناگرمل باجوریا اور ان کا خاندان 1930 میں پاکستان کے لاہور سے آکر بھاگلپور میں آباد ہوا تھا۔ اس کے بعد بھاگلپور ہی ان کا عملی میدان بنا اور طویل عرصہ تک وہ یہاں سماجی اور انتخابی سرگرمیوں میں سرگرم رہے۔ ناگرمل باجوریا انتخابات لڑنے کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ انتخاب جیتنا کبھی ان کی ترجیح نہیں رہی۔ ان کا بنیادی مقصد لوگوں کو جمہوریت میں ایک عام آدمی کی طاقت کا احساس دلانا تھا۔ناگرمل باجوریا کی انتخابی زندگی جتنی زیر بحث رہی، اتنا ہی ان کا سماجی خدمت سے بھی گہرا ناطہ تھا۔ عمر کی آخری منزل میں وہ ضعیفی سے متعلق صحت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔ اس کے باوجود انتخابی میدان میں اترنے کا ان کا جذبہ کم نہیں ہوا۔ ان کی زندگی جمہوریت میں عام لوگوں کی شرکت اور ان کی طاقت پر یقین کی مثال سمجھی جاتی رہی ہے۔ناگرمل باجوریا زندگی بھر انتخابی میدان میں پوری شدت کے ساتھ ڈٹے رہے۔ انتخاب در انتخاب حریف انہیں شکست دیتے رہے، لیکن انہوں نے کبھی دل سے ہار نہیں مانی۔ انتخابی نتائج کی پروا کیے بغیر وہ بار بار میدان میں اترتے رہے۔ ان کے اسی ناقابل شکست جوش کی وجہ سے بھاگلپور میں انہیں ’دھرتی پکڑ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انتخابات لڑنا ان کے لیے صرف جیت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ جمہوری عمل میں اپنی شرکت درج کرانے کا ایک طریقہ تھا۔