نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر چلائی گئی طلبہ تحریک کے دوران استعمال کیے گئے دہلی پولیس کے چہرہ شناختی نظام (ایف آر ایس) کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ احتجاج کے دوران اس نظام نے 2873 ایسے افراد کی شناخت کی، جن کا چہرہ پولیس کے مجرمانہ ریکارڈ سے ملتا تھا۔ تاہم، ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان میں کم از کم 25 ایسے ملزمان بھی شامل تھے جو احتجاج کے دوران جیل میں بند تھے۔رپورٹ کے مطابق، پولیس کے نظام نے ان افراد کو جنتر منتر کے مظاہرے میں موجود دکھایا، حالانکہ شناخت کیے جانے کے وقت وہ جیل میں تھے۔ اس تضاد نے نہ صرف ایف آر ایس کی درستگی بلکہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج کی قابل اعتماد حیثیت پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔پولیس کے مطابق، 2873 افراد میں 205 ایسے تھے جن کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج تھے۔ ان میں 101 افراد پر قتل، 61 پر عصمت دری، 6 پر بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون (پوسکو) اور 37 پر اقدامِ قتل کے مقدمات درج ہونے کی بات کہی گئی ہے۔دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی شخص کے خلاف صرف چہرہ شناخت نظام کے نتیجے کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جاتی۔ تاہم، جیل میں موجود افراد کو احتجاجی مقام پر موجود دکھائے جانے کے معاملے نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقۂ کار اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کی جانچ کی ضرورت کو نمایاں کر دیا ہے۔’خطرناک جرائم کے ملزمین جیل میں بند تھے تو وہ جنتر منتر کے مظاہرے میں کیسے پہنچ گئے؟‘ کانگریس کا تلخ سوالایس آر سی کس طرح کام کرتا ہے؟ایف آر ایس کیمرے کے ذریعے کسی شخص کے چہرے کی تصویر حاصل کرکے اسے پولیس کے پاس موجود پرانے ریکارڈ سے ملاتا ہے۔ 2022 میں آر ٹی آئی کے جواب میں دہلی پولیس نے بتایا تھا کہ نظام کسی چہرے کے ساتھ 80 فیصد تک مماثلت ظاہر کرے تو اسے ’مثبت شناخت‘ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ایسی مماثلت حتمی شناخت یا کسی جرم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہوتی۔چہرے کی شناخت کے نتیجے پر کیمرے کا زاویہ، روشنی، تصویر کا معیار، چہرے پر ماسک کی موجودگی اور پولیس کے ریکارڈ میں محفوظ تصویر کا معیار سمیت کئی عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں۔جنتر منتر مظاہرہ: سنگین مجرمانہ ریکارڈ والوں کو چھوڑ کر دیگر طلبا کے خلاف کارروائی پر سپریم کورٹ کی روکاس معاملے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ پولیس کے ذریعے شناخت کیے گئے 2,873 افراد میں کتنے لوگ زیرِ سماعت مقدمات کے ملزم تھے، کتنے کسی مقدمے میں نامزد تھے اور کتنے عدالت سے مجرم قرار دیے جا چکے تھے۔ پولیس کے ریکارڈ میں بنیادی طور پر سنگین جرائم کا سامنا کرنے والے ملزمان کی تصاویر اور دیگر معلومات شامل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔دریں اثنا، کانگریس نے بھی جیل میں بند ملزمان کو مظاہرے میں موجود دکھائے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایف آر ایس میں خرابی ہے تو اس کے استعمال کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے، اور اگر نظام درست ہے تو جیل میں بند افراد جنتر منتر کیسے پہنچے، اس کی وضاحت ضروری ہے۔