’جی ڈی پی کی 7.8 فیصد شرح نمو کے نام پر حکومت اصل مسائل نظرانداز کر رہی ہے‘، شرد پوار کا مرکز پر حملہ

Wait 5 sec.

بارامتی: این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے اپریل تا جون سہ ماہی میں جی ڈی پی کی 7.8 فیصد شرح نمو کے اعلان پر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت اعداد و شمار کے طریقۂ کار میں ہیر پھیر کے ذریعے معیشت کی صورت حال کو بہتر دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ معیشت کی حالت کو بہت مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ملک کو درپیش بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام ہے کہ معیشت دراصل سست ہو رہی ہے۔پوار کے مطابق ان کا اعتراض صرف 7.8 فیصد کے اعداد و شمار پر نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے اس شرح نمو کو ملک کی مضبوط اقتصادی صورت حال کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے پر ہے۔ پوار نے وزیر اعظم پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ مہنگائی میں اضافے اور خاندانوں کی گھٹتی بچت جیسے گھریلو مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بین الاقوامی پروگراموں اور دیگر معاملات کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اقتصادی ترقی کے دعووں کے بجائے عام لوگوں کو درپیش مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔این سی پی (ایس پی) سربراہ نے چینی کی بڑھتی قیمتوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار کی لاگت بڑھنے کے باوجود کسانوں کو اس کا مناسب فائدہ نہیں مل رہا۔ پوار نے چینی کی درآمد کے معاملے میں بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں فی الحال یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔’پی آر‘ سے جی ڈی پی کی تصویر چمکائی جا سکتی ہے، معیشت نہیں: جے رام رمیشانہوں نے مہاراشٹر کے ایف ڈی اے کمشنر تُکارام منڈے کی جانب سے ڈیری سیکٹر میں ملاوٹ کے خلاف چلائی گئی مہم کا خیرمقدم کیا۔ پوار نے کہا کہ دودھ کی قیمت 60 روپے سے بڑھ کر 80 روپے فی لیٹر ہونے کے باوجود صارفین بہتر معیار کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں، جس سے بالآخر پیداوار کنندگان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔مہاراشٹر میں بارش کی کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پوار نے پینے کے پانی اور بوائی کے کاموں کے حوالے سے ممکنہ بحران سے خبردار کیا اور اجتماعی راحتی اقدامات کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے 16 اکتوبر کے آس پاس بارامتی آنے کا امکان ہے، جہاں انہیں مقامی اقدامات کے بارے میں معلومات دی جائیں گی۔’جی ڈی پی کا جشن، عام آدمی پریشان‘، کھڑگے نے مودی حکومت کو ’تین یو‘ پر گھیراجی ڈی پی کے اعداد و شمار پر پوار کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اپوزیشن جماعتیں اور بعض ماہرین بھی نئی جی ڈی پی سیریز اور حساب کتاب کے طریقۂ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سابق مالیاتی امور کے سیکریٹری سُبھاش چندر گرگ نے 7.8 فیصد شرح نمو کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سابقہ اعداد و شمار میں تبدیلی نے موجودہ شرح نمو کو زیادہ دکھایا ہے۔ تاہم، مرکزی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے 7.8 فیصد شرح نمو کو درست قرار دیا ہے اور نئی بنیاد اور طریقۂ کار کا دفاع کیا ہے۔