افغانستان میں نیا قانون نافذ

Wait 5 sec.

کابل(3 ستمبر 2026): افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک میں احتجاج پر پابندی عائد کرنے والے نئے قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون مکمل طور پر اسلامی قوانین کے مطابق ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق پانچ برس قبل دوبارہ اقتدار میں آنے والے طالبان کے دور میں ملک کے اندر احتجاجی سرگرمیاں پہلے ہی نہ ہونے کے برابر رہی ہیں، تاہم گزشتہ ماہ حکومت نے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت احتجاج کی ہر قسم پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اس نئے قانون کو ‘ظالمانہ’ اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام میں احتجاج کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے احتجاج ان معاشروں میں ہوتے ہیں جہاں جمہوریت یا ریپبلکن نظام جیسے مختلف قوانین نافذ ہوں، جبکہ اسلامی نظام میں عوام احتجاج کرنے کے بجائے اپنے مسائل اور تحفظات براہ راست حکومت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس پابندی سے لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچے گا اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان سے بھی بچاؤ ممکن ہوگا۔واضح رہے کہ پچھلے مہینے کے اواخر میں اس پابندی کے نفاذ کے بعد ہیومن رائٹس واچ نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اختلافِ رائے دبانے کی ایک اور ظالمانہ کوشش قرار دیا تھا، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس شق کو افغانستان میں انسانی حقوق پر ایک اور سنگین حملہ قرار دیا ہے۔اگرچہ افغانستان میں عمومی طور پر احتجاجی سرگرمیاں نایاب ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق جون میں مغربی شہر ہرات میں خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والے ایک احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔