نیویارک(3 ستمبر 2026): نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک طلبا کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک طلبا کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس پابندی کا مقصد ملک کے سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا ایک بڑا نظامِ نو تشکیل دینا ہے، جس میں سالانہ تقریباً نو لاکھ طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔نیویارک سٹی کی نئی پالیسی کے تحت کلاس رومز میں تیسری جماعت یعنی نو یا دس سال کی عمر تک طلبا کو لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹس سے بھی دور رکھا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق والدین اور اساتذہ کی جانب سے اسکولوں میں اے آئی تعلیمی سافٹ ویئر کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جن میں بچوں کی ذہنی صحت، ادراکی نشوونما کو نقصان پہنچنے کا خدشہ اور ‘کوگنیٹو سرنڈر’ (یعنی سافٹ ویئر کے حوالے مکمل سوچ بچار چھوڑ دینے کا رجحان) شامل ہے۔Google Messages adds Content Credentials to track AI edits in chat mediaنئی ہدایات کے مطابق اے آئی کا استعمال صرف ایک حد تک اور وہ بھی ٹیکنالوجی کے بارے میں سیکھنے جیسے مخصوص مقاصد کے لیے کرنے کی اجازت ہوگی۔نیویارک میں نفسیاتی تعاون فراہم کرنے والے اے آئی ‘کمپینئن چیٹ بوٹس’ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ تاہم اساتذہ کو سبق تیار کرنے یا پیغام لکھنے جیسے انتظامی کاموں کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن وہ اسائنمنٹس گریڈ کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال نہیں کر سکتے۔نیویارک سٹی کی محکمہ تعلیم نے مڈل اسکول کے طلبا کے لیے کلاس میں اسکرین کا وقت زیادہ سے زیادہ پینتالیس منٹ اور ابتدائی اسکول کے طلبا کے لیے تیس منٹ تک محدود کرنے کی سفارش کی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل 2023 میں بھی چیٹ جی پی ٹی پر پابندی لگائی گئی تھی جسے بعد میں ہٹا لیا گیا تھا، اور رواں سال مارچ میں ایک نیا فریم ورک جاری کیا گیا تھا جس کے بعد والدین اور اساتذہ کی طرف سے سخت تنقید سامنے آئی تھی۔اب اس معاملے پر اساتذہ، منتخب نمائندوں، ماہرین اور یونین کے نمائندوں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے جو اپریل میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی، اور یہی رپورٹ نیویارک کی مستقبل کی اے آئی پالیسی کی بنیاد بنے گی۔