واشنگٹن(3 ستمبر 2026): ہالی ووڈ کے معروف اداکار جارج کلونی کا موجودہ امریکی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا ہے کہ ملک کو نااہل ترین افراد چلا رہے ہیں۔وینس فلم فیسٹیول کے افتتاحی روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جارج کلونی نے کہا کہ وہ موجودہ حالات کے پیش نظر ’کاکسٹو کریسی‘ یعنی ایسے نظامِ حکومت میں جی رہے ہیں جہاں اقتدار کمترین صلاحیت کے حامل لوگوں کے پاس ہوتا ہے۔انہوں نے امریکی حکومت کے طرزِ عمل پر شرمندگی کا اظہار کیا اور کہاکہ اس وقت حالات انتہائی افسوسناک ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلیوں اور فلمی صنعت پر بھی گفتگو کی گئی۔ اداکار نے نشاندہی کی کہ دنیا کے امیر ترین افراد اب بڑے میڈیا اداروں کے مالک بن چکے ہیں، جس سے معلومات کی غیر جان داری پر گہرے سوالات اٹھتے ہیں۔انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے اس ٹویٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر ایک تقریب کے دوران کینیڈین خاتون فوجی کے جسمانی خدوخال کا مذاق اڑایا گیا تھا، اور سوال اٹھایا کہ معاشرے میں اخلاقی اقدار اور شائستگی کہاں جا رہی ہے۔امریکا کی ماضی کی شورش زدہ تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ کو ایک پرامید انسان قرار دیا اور کہا کہ وہ 1968 کا وہ دور بھی دیکھ چکے ہیں جب امریکہ کے تمام شہر جل رہے تھے، مارٹن لوتھر کنگ اور بوبی کینیڈی کو ایک ہی سال میں قتل کر دیا گیا تھا، شدید تشدد کا بازار گرم تھا اور دارالحکومت میں ٹینک تعینات تھے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومبر کے مڈ ٹرم الیکشنز حکومتی اقدامات میں چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کریں گے، جبکہ دو ہزار اٹھائیس تک ملک میں حالات معمول پر آنے اور نظام کی بحالی کی توقع ہے۔