نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 2 مسلمان خواتین صحافیوں کو ساکیت تھانے میں پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنی مسلم شناخت ظاہر کرنے کے بعد ان پر بدترین تشدد کیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فری لانس صحافی شاہین خان اور ان کی ساتھی نفیسہ خان دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کی شرکت والے ایک پروگرام کی کوریج کے لیے آئیں تھیں۔مسلمان خاتون صحافی شاہین خان نے ساکیت پولیس اسٹیشن سے جاری کی گئی ویڈیو رپورٹ میں بتایا کہ انہیں اور ان کی ساتھی کو محض وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ سے سوال کرنے پر پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ اس دوران نام پوچھا اور جب انہوں نے ’شاہین خان‘ بتایا تو اہلکاروں نے بدترین تشدد کیا۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/09/01.mp4رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں شاہین خان نے اپنے بازو پر تشدد کے نشانات دکھائے جبکہ ان کی ساتھی نفیسہ خان کو شدید تکلیف میں دیکھا گیا۔شاہین خان نے کہا کہ دونوں صحافیوں کو ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں تھپڑ مارے اور لاٹھیوں سے بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔بھارتی وزارت دفاع کی حاملہ خاتون افسر کی پراسرار موت، لاش برآمددہلی پولیس کی جانب سے کئے گئے تشدد کے بعد ڈیجیٹل پبلشرز اینڈ نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن سمیت صحافتی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ تحقیقات، پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔