’خطرناک جرائم کے ملزمین جیل میں بند تھے تو وہ جنتر منتر کے مظاہرے میں کیسے پہنچ گئے؟‘ کانگریس کا تلخ سوال

Wait 5 sec.

کانگریس نے جنتر منتر پر ہوئے طلبا و نوجوانوں کے مظاہرے سے متعلق دہلی پولیس کے دعوے پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن پارٹی نے جیل میں بند ملزمین کی اس مظاہرے میں موجود پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے نہ صرف دہلی پولیس، بلکہ مرکز کی مودی حکومت کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔جنتر منتر مظاہرہ: سنگین مجرمانہ ریکارڈ والوں کو چھوڑ کر دیگر طلبا کے خلاف کارروائی پر سپریم کورٹ کی روککانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں بتایا تھا کہ جنتر منتر کے مظاہرے میں سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے مجرم شامل تھے، لیکن ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ نے پولیس کے اس دعوے پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ کانگریس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے ایسے 25 ملزمین کو بھی جنتر منتر کے مظاہرے میں موجود بتایا، جو مظاہرے کے دوران جیل میں بند تھے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ پولیس کا دعویٰ ہے ان ملزمین کی شناخت اس کے فیشیل ریکگنیشن سافٹ ویئر کے ذریعے کی گئی تھی۔ پارٹی نے اسی بنیاد پر پولیس کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 ہی امکانات نظر آتے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یا تو دہلی پولیس کے فیشیل ریکگنیشن سافٹ ویئر میں کوئی خرابی تھی، یا پھر قصداً خطرناک جرائم کے ملزمین کو جیل سے نکال کر مظاہرے میں لایا گیا تاکہ وہاں کا ماحول خراب کیا جا سکے۔ پارٹی کے مطابق دونوں ہی صورتیں انتہائی سنگین ہیں اور ان کی وضاحت ضروری ہے۔दिल्ली पुलिस ने सुप्रीम कोर्ट में बताया था कि जंतर-मंतर के प्रदर्शन में गंभीर आरोपों वाले अपराधी शामिल थे। लेकिन इंडियन एक्सप्रेस की रिपोर्ट बताती है कि ⦿ पुलिस ने 25 ऐसे आरोपियों को भी जंतर-मंतर के प्रदर्शन में मौजूद बताया- जो कि प्रोटेस्ट के दौरान जेल में बंद थे… pic.twitter.com/gdYx6CC7rh— Congress (@INCIndia) September 4, 2026کانگریس نے سوال اٹھایا کہ اگر فیشیل ریکگنیشن سافٹ ویئر میں خرابی ہے تو پھر اس کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟ پارٹی نے یہ بھی پوچھا کہ اگر اس سافٹ ویئر کی وجہ سے کسی بے قصور شخص کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ سوال یہ بھی کیا گیا کہ اگر سافٹ ویئر میں کوئی خرابی نہیں ہے تو وہ ملزمین، جو اُس وقت جیل میں بند تھے، جنتر منتر کے مظاہرے میں کیسے پہنچ گئے؟کانگریس نے ان سوالات کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جواب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس کو دینے ہوں گے۔ پارٹی نے اس معاملے کو مودی حکومت کے دور میں پولیس کے طریقۂ کار اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق ایک اہم سوال قرار دیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات کے مرکز میں فیشیل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس سے تیار ہونے والی شناختی معلومات کی درستگی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر پولیس کا دعویٰ درست ہے تو جیل میں بند ملزمین کی جنتر منتر پر موجودگی کی وضاحت ضروری ہے، جبکہ اگر سافٹ ویئر نے غلط شناخت کی ہے تو اس ٹیکنالوجی کی قابل اعتماد حیثیت اور اس کے استعمال کے طریقۂ کار پر سوال اٹھتا ہے۔جنتر منتر مظاہرہ: دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے کیا انکارکانگریس نے ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ کے ذریعہ حکومت اور دہلی پولیس سے اس پورے معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے کہا ہے کہ جنتر منتر کے مظاہرے سے متعلق پولیس کے دعووں اور فیشیل ریکگنیشن سافٹ ویئر سے سامنے آنے والی شناختوں کے درمیان پیدا ہونے والے تضاد کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔