’حج 2027‘ کے جامع سروس پیکیج کے لیے سروس پرووائیڈر کے انتخاب کو لے کر سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے ٹنڈر کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس فیصلہ سے ہندوستانی حج عازمین پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس تنازعہ کا مرکز ہندوستانی عازمین کے لیے سعودی عرب میں سروس پرووائیڈر کے طور پر ’اِثراء الخیر‘ کے انتخاب کو بتایا جا رہا ہے۔ سنجے سنگھ نے سوال اٹھایا ہے کہ مبینہ طور پر اسی کمپنی کا بار بار انتخاب کیوں کیا گیا؟ انھوں نے اقلیتی امور کی وزارت سے اس کمپنی کے انتخاب کی بنیاد پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔انگریزی نیوز پورٹل ’مسلم مرر‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق سنجے سنگھ نے 27 اگست کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے۔ اس پوسٹ میں کمپنی اور حکومت کے درمیان مبینہ تعلق پر سوال اٹھایا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال اس کے انتخاب سے فی حاجی تقریباً 6,000 روپے کا اضافی بوجھ پڑا تھا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تازہ ترین فیصلہ سے حج عازمین پر مالی بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔’مسلم مرر‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافی اور کالم نگار سید ضیغم مرتضیٰ کی جانب سے ’بولی کے عمل‘ پر سوال اٹھائے جانے کے بعد اس معاملے کو مزید توجہ ملی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن‘ (کیو سی بی ایس) کے عمل کے تحت ’مشارق المطمیزہ‘ ایل 1 بولی دہندہ کے طور پر سامنے آئی تھی، جس نے فی حاجی 8,717.01 سعودی ریال کی شرح پیش کی تھی، جبکہ ’اِثراء الخیر‘ نے 9,777 سعودی ریال کی بولی لگائی تھی۔ مرتضیٰ نے اندازہ لگایا کہ اس فرق کے نتیجے میں تقریباً 1.22 لاکھ ہندوستانی عازمین پر 300 کروڑ روپے سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ تاہم، زیر جائزہ سرکاری ٹنڈر کی معلومات میں ان اعداد و شمار اور الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔نیوز رپورٹ کے مطابق حکومت کے سرکاری ٹنڈر ریکارڈ سے تصدیق ہوتی ہے کہ ہندوستانی حج عازمین کے مکہ واقع دفتر (جو حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے آپریٹ ہوتا ہے) نے حج 2027 کے دوران ہندوستانی عازمین کے لیے جامع سروس پیکیج اور متعلقہ آپریشنل سپورٹ خدمات کے لیے بولیاں طلب کی تھیں۔ ٹنڈر اگست 2026 میں جاری کیا گیا تھا اور اس میں ٹنڈر کی متوقع مالیت 200 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔اس تنازعہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اقلیتی امور کی وزارت نے 28 اگست کو کہا کہ سروس پرووائیڈر کمپنی کا انتخاب قابل اطلاق خریداری کے ضوابط کے مطابق ’مقررہ اور منظم ٹینڈرنگ عمل‘ کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ اہل بولیوں کی جانچ اور تشخیص مقررہ حکام اور کمیٹیوں نے ٹنڈر دستاویز میں طے کیے گئے پیمانوں کی بنیاد پر کی ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ حتمی انتخاب منظور شدہ تشخیصی طریقۂ کار کی بنیاد پر کیا گیا اور اس پر کسی بھی ’غیر متعلقہ غور‘ کا اثر نہیں تھا۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ انتخاب سے قبل معیار، صلاحیت، آپریشنل تیاری اور مالی پہلوؤں جیسے عوامل کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ اس نے بدعنوانی یا بے ضابطگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی عازمین کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے۔بہرحال، عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بعد میں سوال اٹھایا کہ کیا وزارت کی وضاحت نے ان کے اٹھائے گئے خدشات کا مناسب جواب دیا ہے! انہوں نے پوچھا کہ کیا مبینہ طور پر مسلسل 4 برسوں تک اسی کمپنی کا انتخاب محض اتفاق قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کسی دوسری کمپنی کی سفارش مبینہ طور پر تکنیکی کمیٹی نے کی تھی تو آخرکار ٹھیکہ ’اِثراء الخیر‘ کو کیوں دیا گیا؟