لکھنؤ: اتر پردیش میں مسلسل مانسون کی بارش اور ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے باعث سیلابی صورت حال سنگین ہو گئی ہے۔ ریاست کے 23 اضلاع میں سیلاب جیسے حالات ہیں اور اب تک 16 ہزار سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ وارانسی اور چترکوٹ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔ گنگا، جمنا سمیت 10 سے زائد ندیاں میں طغیانی ہے، جس کے باعث سیکڑوں دیہات کا رابطہ متاثر ہوا ہے اور کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔محکمہ موسمیات نے جمعہ کو ریاست کے 65 اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ متھرا، آگرہ اور قنوج سمیت 16 اضلاع میں شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے سیلابی صورت حال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔وارانسی میں گنگا کے پانی کی آبی سطح کم ہو رہی ہے، تاہم ورونا ندی کے کنارے واقع نشیبی علاقوں میں سیلاب کا اثر برقرار ہے۔ کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بجنور میں گنگا کا پانی ہائی وے کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔ یہاں بچوں کو بیل گاڑی کے ذریعے اسکول جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔گونڈا میں گھاگھرا ندی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انتظامیہ نے نگرانی بڑھا دی ہے اور ڈرون کے ذریعے بھی حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔کانپور کے مہربان سنگھ کا پوروا، گوپال پور اور مردن پور گاؤں میں پانڈو ندی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ درجنوں گھروں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے اور مقامی لوگ اپنا سامان محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ ریاست میں گنگا، جمنا، مندکنی، ٹونس، بیلن، سریو، گھاگھرا اور شاردا سمیت کئی ندیاں طغیانی پر ہیں۔چترکوٹ میں بارش اور سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے۔ منداکنی ندی میں طغیانی کے باعث رام گھاٹ سمیت 16 گاؤں زیر آب ہیں۔ ضلع میں اب تک 565 مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ ایک المناک حادثے میں 32 سالہ کلو یادو، ان کے پانچ سالہ بیٹے انش اور ایک سالہ بیٹی گڑیا کی کچے مکان کے ملبے تلے دب کر موت ہو گئی۔ حادثے میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹی شدید زخمی ہو گئیں۔29 اگست کو منداکنی ندی کی سطح 135.200 میٹر کی ریکارڈ بلندی تک پہنچ گئی تھی۔ گزشتہ 48 گھنٹوں سے پانی کی سطح تقریباً 129 میٹر پر برقرار ہے، جبکہ خطرے کا نشان 126.500 میٹر ہے۔ رام گھاٹ علاقے میں سیلاب میں پھنسے متعدد افراد کو محفوظ نکالا جا چکا ہے۔نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 1282 پہنچی، 600 بچوں سمیت تقریباً 5000 افراد اب بھی لاپتہ، دسویں دن 2 زندگیاں بچائی گئیںبارش اور سیلاب سے متعلق حادثات میں چترکوٹ کے علاوہ اٹاوہ، باندا، سیتاپور، بارہ بنکی اور سنبھل سمیت کئی اضلاع میں اب تک 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اٹاوہ میں آسمانی بجلی گرنے سے 12ویں جماعت کے 18 سالہ طالب علم دیویانش راوت کی موت ہو گئی۔ باندا میں درخت گرنے سے موٹر سائیکل سوار کی جان چلی گئی جبکہ اس کے دو رشتہ دار زخمی ہو گئے۔ سیتاپور میں کچی دیوار گرنے سے ایک خاتون کی موت ہوئی۔ بارہ بنکی میں دیوار گرنے سے سسر ہلاک اور داماد زخمی ہو گیا۔’میرے گاؤں کے قریب 200 افراد لاپتہ ہیں‘، نیپال میں سیلاب سے بچ جانے والوں نے سنائی تباہی کی خوفناک داستانسنبھل میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث مکان منہدم ہونے سے پانچ افراد زخمی ہوئے، جبکہ چھت سے گرنے کے نتیجے میں ایک معمر خاتون کی موت ہو گئی۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ نے راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں تعینات کردی ہیں۔ 16 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ تاہم بارش کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ 65 اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور 16 اضلاع میں شدید بارش کے امکان کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رکھا گیا ہے۔