نئی دہلی: اتراکھنڈ کے دہرادون، راجستھان کے کوٹا، اترپردیش کے پریاگ راج اور مہاراشٹر کے پونے کے بعد اب مدھیہ پردیش کے اندور میں بھی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے مجوزہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اندور میں 12 ستمبر کو ہونے والے پروگرام کے لیے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم کی اجازت نہ ملنے کے بعد کانگریس نے اس کی تاریخ تبدیل کر دی ہے۔ اب یہ پروگرام 19 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے بدھ کو اندور میں پروگرام کی تیاریوں سے متعلق ایک میٹنگ کے دوران تاریخ تبدیل کیے جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اسٹیڈیم دستیاب کرانے سے انکار کے بعد پروگرام 12 ستمبر کے بجائے 19 ستمبر کو منعقد ہوگا۔ کانگریس اب پروگرام کے لیے کسی نئے مقام کی تلاش کرے گی اور وہاں ضروری انتظامات مکمل کرے گی۔جیتو پٹواری نے اس سے قبل وزیر اعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر 12 ستمبر کو مجوزہ پروگرام کے لیے نہرو اسٹیڈیم دستیاب کرانے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا تھا کہ راہل گاندھی کا پروگرام محض ایک سیاسی اجتماع نہیں ہے، بلکہ ملک کے مستقبل، نوجوانوں کے خواب، تعلیم کے حق اور تعلیمی نظام کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر طلبہ کے ساتھ براہ راست مکالمے کا پروگرام ہے۔نہرو اسٹیڈیم اندور میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام ہے۔ اندور کے میئر پشیامتر بھارگوا نے اسٹیڈیم میں پروگرام کی اجازت کے معاملے پر کہا تھا کہ اس حوالے سے ہائی کورٹ کا واضح حکم موجود ہے۔ اس حکم کے تحت اسٹیڈیم میں کھیلوں کی سرگرمیوں یا ریاستی سطح کے سرکاری پروگراموں کے انعقاد کی ہی اجازت دی جا سکتی ہے۔میئر کے اس بیان پر اندور کانگریس کے صدر چنٹو چوکسے نے اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر نہرو اسٹیڈیم میں راہل گاندھی کے پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی تو کانگریس احتجاج کرے گی۔’چھاتروں کی گونج‘ کانگریس کی جانب سے شروع کیا گیا طلبہ سے مکالمے کا ایک ملک گیر پروگرام ہے، جس کے تحت مختلف شہروں میں طلبہ کے ساتھ پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ راہل گاندھی ان پروگراموں کے ذریعے سوالیہ پرچوں کے افشا، مہنگی تعلیم، سرکاری بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور بے روزگاری جیسے مسائل اٹھا رہے ہیں۔