روس کے نووروسیسک سے کراچی جا رہے ہندوستانی عملہ والے مال بردار جہاز ’ایم وی باریون‘ (آئی ایم او 9151412) پر ڈرون حملہ کی خبر ہے۔ 2 ستمبر 2026 کو ہوئے اس حملے میں ڈرون جہاز کے اکوموڈیشن ایریا سے ٹکرا گیا، جس کے بعد آگ لگ گئی۔ اچھی بات یہ رہی کہ جہاز پر سوار عملہ نے فوری طور پر آگ پر قابو پا لیا اور جہاز اپنے انجن کے سہارے آگے بڑھتا رہا۔MV BARYON, travelling from Russia to Pakistan, came under a drone attack on September 2, with an unmanned aircraft striking its accommodation section and triggering a fire onboard.Vessel was sailing from Novorossiysk, Russia, to Karachi when it was targeted. A second drone was… pic.twitter.com/ngX8KBjToN— Orissa POST Live (@OrissaPOSTLive) September 4, 2026ایف ایس یو آئی جنرل سکریٹری منوج یادو نے اس واقعہ کے تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ حملہ کے دوران دوسرا ڈرون بھی دیکھا گیا۔ جہاز پر 23 ہندوستانی ملاح سوار تھے اور سبھی کے محفوظ ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ منوج یادو نے مزید کہا کہ اس واقعہ کو لے کر ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت پر سنگین سوال اٹھ رہا ہے۔ ہندوستانی ملاح بین الاقوامی تجارت کو ہموار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کسی بھی تنازعہ کا حصہ نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود ہندوستانی عملہ والے تجارتی جہازوں کو مسلسل سیکورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس سے قبل آبنائے ہرمز میں 21 ہندوستانی ملاحوں والے ایک کنٹینر جہاز پر ایرانی کشتیوں نے فائرنگ کی تھی۔ ہندوستانی ملاحوں کی تنظیم ’ایف ایس یو آئی‘ نے حال ہی میں اس واقعہ کی ویڈیو جاری کی۔ ویڈیو میں ایرانی ریوولوشنری گارڈز (آئی آر جی سی) سے وابستہ کشتیوں کو جہاز کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاز پر فائرنگ کے بعد شیشے ٹوٹ گئے اور سامان بکھر گیا۔ اس حملہ کے دوران جہاز پر موجود عملہ کے اراکین اپنی جان بچانے کے لیے اندر چھپ گئے۔ اچھی بات یہ رہی کہ جہاز پر موجود سبھی 21 ہندوستانی ملاح محفوظ رہے۔Drone Hits Cargo Ship With 23 Indian Sailors Onboard On Russia To Karachi Route#Cargo #DroneAttack https://t.co/x8of6QUgEf— ABP LIVE (@abplive) September 4, 2026قابل ذکر ہے کہ خلیجی خطے میں عدم تحفظ کے باعث ہندوستان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ہندوستانی ملاحوں کی نئی تعیناتی پر روک لگا رکھی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت لیا گیا تھا، جب ہرمز کے علاقوں میں ہوئے حملوں میں کچھ ہندوستانی ملاحوں کی موت ہوئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے اب تک اس خطے میں ہوئے حملوں میں کم از کم 14 ہندوستانی ملاحوں کی جان جا چکی ہے۔