فوجی اے آئی ایپلیکیشنز کی ترقی، یو اے ای امریکی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان

Wait 5 sec.

ابوظبی (22 اگست 2026): متحدہ عرب امارات اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے ٹاسک فورس ٹیلن سائنَیپس کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو دنیا کی پہلی دو طرفہ ٹاسک فورس ہے جس کا مقصد فوجی مصنوعی ذہانت (ملٹری اے آئی) کی ایپلی کیشنز کی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ابوظبی میں قائم ہونے والی یہ ٹیم مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں کے 20 امریکی اور اماراتی ماہرین کو یک جا کرے گی۔ اس کی توجہ انٹیلی جنس معاونت، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کی نگرانی پر ہوگی۔نئی ٹاسک فورس اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا متحدہ عرب امارات کو فوجی اے آئی شعبے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔ یہ اقدام شیخ طحنون اور ایڈمرل کوپر کے درمیان ہونے والی اماراتی-امریکی گفتگو سے تشکیل پایا ہے۔امریکی فضائیہ کا جدید طیارہ آبنائے ہرمز کے قریب اچانک کیسے غائب ہو گیا؟امریکی سینٹرل کمانڈ (سیٹکام) نے 28 جولائی کو یو اے ای کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت فوجی مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پہلی دو طرفہ ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔The US & UAE have launched Task Force Talon Synapse, the first bilateral task force dedicated to military AI. Based in Abu Dhabi, it brings together experts in AI, data & cybersecurity to advance intelligence, infrastructure protection & regional security. https://t.co/Ju8mWjSukc— UAE Embassy US (@UAEEmbassyUS) August 21, 2026امریکا اور یو اے ای کی اس ٹاسک فورس کا باقاعدہ آغاز آنے والے ہفتوں میں متوقع ہے۔ ابوظبی میں قائم اس ٹیم میں تقریباً بیس امریکی اور اماراتی اہلکار شامل ہوں گے، جنھیں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اور سائبر سیکیورٹی میں مہارت حاصل ہوگی۔سینٹرل کمانڈ کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ’’یہ ایک تاریخی سنگِ میل ہوگا، کیوں کہ ہم اپنے خطے کے سب سے زیادہ باصلاحیت شراکت داروں میں سے ایک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کو تیزی سے اپنے جنگجو اہلکاروں تک پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’ہم اور ہمارے اماراتی شراکت دار مل کر ایسی مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز اپنانے کے لیے مضبوط عزم رکھتے ہیں جو تیز رفتاری اور بڑے پیمانے پر جدت کو فروغ دیں گی۔‘‘گزشتہ برس کوپر اور متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان نے اس امکان پر گفتگو کی تھی کہ یہ ٹاسک فورس قائم کی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ماہ خطے کے دورے کے دوران سینٹرل کمانڈ نے مصنوعی ذہانت کی صنعت کے رہنماؤں اور اماراتی دفاعی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ٹاسک فورس کی توجہ انٹیلی جنس معاونت کے لیے مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز کو مربوط کرنے، اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، اور علاقائی سلامتی کے ماحول کی نگرانی پر مرکوز ہوگی۔