راجستھان میں خستہ حال اسکولی چھت گرنے سے 120 طلبہ بال بال بچے، کانگریس نے حکومت کو ٹھہرایا ذمہ دار

Wait 5 sec.

راجستھان کے ڈونگرپور ضلع میں اپر پرائمری اسکول کے خستہ حال ایک کمرے کی چھت گر گئی۔ اس وقت اسکول میں کلاسیں جاری تھیں اور 120 طلبہ اپنی اپنی کلاسوں میں بیٹھ کر پڑھائی کر رہے تھے۔ لیکن کمرہ خستہ حال ہونے کی وجہ سے ایک سال سے بند تھا اور اس میں بچوں کو نہیں بٹھایا جا رہا تھا، جس وجہ سے بڑا حادثہ ہونے سے ٹل گیا۔ اس واقعہ پر کانگریس کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ویڈیو پوسٹ کر کے لکھا کہ ’’راجستھان کے ڈونگرپور میں ایک اسکول کی چھت دھڑام سے گر گئی۔ جس وقت یہ حادثہ ہوا اس وقت اسکول میں 120 بچے پڑھ رہے تھے۔ غنیمت رہی کہ جب چھت گری تو وہاں بچے اور اساتذہ موجود نہیں تھے ورنہ بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔‘‘राजस्थान के डूंगरपुर में एक स्कूल की छत भरभराकर गिर गई। जिस समय ये हादसा हुआ, तब स्कूल में 120 बच्चे पढ़ रहे थे।गनीमत रही कि जब छत गिरी तो वहां बच्चे और टीचर मौजूद नहीं थे, वरना बड़ा हादसा हो सकता था।ये पहली बार नहीं है, बीते साल भीलवाड़ा में एक सरकारी स्कूल की छत गिरने से कई… pic.twitter.com/htkLMQRhU4— Congress (@INCIndia) August 25, 2026اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس نے مزید لکھا کہ ’’یہ پہلی بار نہیں ہے، گزشتہ سال بھیلواڑہ میں ایک سرکاری اسکول کی چھت گرنے سے کئی بچوں کی دردناک موت ہو گئی تھی۔ لیکن بی جے پی حکومت ہے کہ کان میں روئی ڈال کر سوئی ہوئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے بی جے پی حکومت سے 2 تلخ سوال بھی پوچھے کہ ’’بی جے پی حکومت کب تک بچوں کی جان خطرے میں ڈالتی رہے گی؟ کیا بی جے پی کے لیڈران اور وزراء اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں پڑھنے کے لیے بھیجیں گے؟‘‘’کمبھ کے بجٹ کا اگر 0.1 فیصد اسکولوں پر خرچ ہوتا تو 100 سے زائد اسکول بند ہونے سے بچ جاتے‘، سپریم کورٹ جج ورالے کا بیانواضح رہے کہ روزانہ کی طرح اسکول میں کلاسیں چل رہی تھیں۔ اسی دوران اسکول کے بند پڑے خستہ حال کمرے کی چھت اچانک گر گئی۔ تیز آواز آتے ہی اسکول کے بچے اور اساتذہ کمروں سے باہر نکل آئے۔ دیکھا تو خستہ حال 2 کمروں میں سے ایک کمرے کی چھت گر گئی تھی۔ اساتذہ نے واقعے کی اطلاع پی ای ای او پنکج ورما کو دی، جس پر پی ای ای او اور سی بی ای او دیپک شاہ موقع پر پہنچے۔ اسکول انتظامیہ نے بتایا کہ اسکول کے 10 میں سے 2 کمرے خستہ حال ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں غیر محفوظ قرار دے دیا گیا تھا اور کمروں کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ سی بی ای او نے بتایا کہ نئی چھت ڈالنے کے لیے تجاویز بھیج دی گئی ہیں۔ ایسے میں منظوری آنے پر جلد ہی کمروں کو ٹھیک کروا دیا جائے گا۔