نئی دہلی: کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے راہل گاندھی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنے کو لے کر بی جے پی رہنماؤں کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جواب دہی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ جب یہ معاملہ وزارت داخلہ سے متعلق ہے تو وزیر داخلہ خود سامنے آ کر جواب کیوں نہیں دیتے؟ پون کھیڑا نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا امت شاہ کی خاموشی جرم کا اعتراف ہے۔پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں بی جے پی صدر جے پی نڈا کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ’’بغیر کوئی بامعنی بات کہے بہت شور مچاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کسی کو جے پی نڈا سے خاموش رہنے کے لیے کہنا چاہیے۔کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، امت شاہ کو بچانے کے لیے ایک کے بعد ایک مرکزی وزیر کو آگے کر رہے ہیں۔ انہوں نے روی شنکر پرساد، جے پی نڈا، راج ناتھ سنگھ اور کرن رجیجو کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ہر بار ’یہ جی‘ یا ’وہ جی‘ سامنے آتے ہیں، لیکن ’متعلقہ جی‘ کو کبھی سامنے نہیں لایا جاتا۔پون کھیڑا نے کہا کہ یہ وزارت داخلہ سے متعلق معاملہ ہے اور اس کے لیے وزیر داخلہ ہی جواب دہ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا، ’’وہ سامنے کیوں نہیں آتے؟ کیا وہ بزدل ہیں؟ یا ان کی یہ خاموشی جرم کا اعتراف ہے؟‘‘پون کھیڑا کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب راہل گاندھی نے جمعہ کو ساحل لوچب کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کے مطالبے پر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا تھا۔ ساحل لوچب 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن سے زخمی ہوئے تھے۔ راہل گاندھی ساحل اور ان کی والدہ کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچے تھے اور ان کی تحریری شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔Nadda ji makes so much noise, without making any sense. Someone needs to tell him to be quiet.But it’s funny how Modi ji keeps throwing one minister after another under the bus for Amit Shah - Ravi Shankar ji, Nadda ji, Rajnath ji, Kiren Rijiju ji. Always this “Ji” or that… https://t.co/kic6EgUQTy— Pawan Khera ಪವನ್ ಖೇರಾ (@Pawankhera) August 21, 2026کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے ساحل لوچب کے پیلٹ گن سے زخمی ہونے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی۔ پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 118 اور 125 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد راہل گاندھی نے اسے ’انصاف کی جانب پہلا قدم‘ قرار دیا۔اس سے قبل راہل گاندھی نے پولیس کے سامنے سوال اٹھایا تھا کہ اگر دہلی پولیس نے پیلٹ نہیں چلائے تو پھر ساحل کے جسم میں موجود چھرے کہاں سے آئے۔ انہوں نے ایمس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ساحل کے جسم میں 200 سے زیادہ چھرے ہیں، ان کی آنکھ میں بھی چھرے لگے ہیں اور دل کے قریب بھی چھرے موجود ہیں۔راہل گاندھی نے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ صبح تقریباً 11:30 بجے پولیس اسٹیشن پہنچے تھے، جبکہ ایف آئی آر تقریباً شام 6:45 بجے درج کی گئی۔ ان کے مطابق ایک شہری اور اس کے خاندان کے لیے ایف آئی آر درج کرانے میں تقریباً ساڑھے سات گھنٹے لگ گئے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے حتمی منظوری کے بعد ہی پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔اس پورے معاملے پر کانگریس پہلے ہی امت شاہ اور دہلی پولیس سے سوال کر رہی ہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی امت شاہ کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے جواب دہی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ساحل اور ان کی والدہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے پولیس کے چکر لگاتے رہے، لیکن کارروائی نہیں ہوئی۔دوسری جانب بی جے پی صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے راہل گاندھی کے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس بچوں اور طلبہ کے مستقبل کو ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک آئین، قانون اور عدالتی عمل کے مطابق چلتا ہے۔راہل گاندھی کے دھرنے میں پرینکا گاندھی سمیت کانگریس کے کئی رہنما اور کارکن بھی شامل ہوئے تھے۔ اس احتجاج کے بعد ایف آئی آر کا اندراج اب معاملے کی قانونی تحقیقات کی جانب اہم قدم ہے، جبکہ کانگریس پیلٹ گن کے استعمال کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔