مہاراشٹر کے پونے میں 22 اگست کی شام پوری طرح خواتین کے نام رہا۔ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں راہل گاندھی کے سامنے کئی طالبات نے بے خوف ہو کر اپنی باتیں رکھیں۔ اس تقریب میں موجود ہزاروں خواتین اس وقت حیران رہ گئیں جب مشہور بھوجپوری گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھوڑ اسٹیج پر پہنچیں اور راہل گاندھی سے مخاطب ہوئیں۔ یہ ایک سرپرائز انٹری کی طرح تھی، لیکن نیہا راٹھوڑ نے اسٹیج سے کچھ اہم باتیں لوگوں کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں حکومت سے ان تمام ایشوز پر سوال پوچھتی ہوں، جو حکومت کو پسند نہیں آتے۔ اس کے بدلے مجھے ڈھیر ساری گالیاں اور ایف آئی آر جھیلنی پڑتی ہیں۔‘‘मैं सरकार से उन तमाम मुद्दों पर सवाल पूछती हूं, जो सरकार को पसंद नहीं आते। इसके बदले मुझे ढेर सारी गालियां और FIR झेलनी पड़ती हैं।लोकतंत्र में अगर हम अपने प्रधानमंत्री से सवाल नहीं पूछ सकते, तो फिर यह कैसी आज़ादी और कैसा लोकतंत्र है?मुझे लगता है कि एक महिला के लिए समाज में… pic.twitter.com/mMFxBjoMye— Congress (@INCIndia) August 22, 2026نیہا سنگھ راٹھوڑ نے اسٹیج پر اپنی بات رکھنے کی اجازت دینے کے لیے راہل گاندھی کا شکریہ ادا کیا، اور بے باکی کے ساتھ حکومت کے خلاف اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جمہوریت میں اگر ہم اپنے وزیر اعظم سے سوال نہیں پوچھ سکتے، تو پھر یہ کیسی آزادی اور کیسی جمہوریت ہے؟‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ ایک خاتون کے لیے سماج میں اپنی شناخت بنانا اور سماجی ایشوز پر کھل کر بولنا بے حد مشکل ہے۔ جیسے ہی کوئی خاتون اپنی آواز اٹھاتی ہے، اس کے سوالوں کا جواب دینے کی جگہ اسے ’کیریکٹر سرٹیفکیٹ‘ دے دیا جاتا ہے۔‘‘औरत पे जोर दिखावे.. ई कैसा मर्दानासाहेब छोड़ द ना.. बेटी-बहुओं को धमकाना pic.twitter.com/tNWlN7LCxI— Congress (@INCIndia) August 22, 2026तुमसा कोई झूठा और बेईमान नहीं हैकिसी एक की बपौती हिंदुस्तान नहीं है pic.twitter.com/PqvKnLWANn— Congress (@INCIndia) August 22, 2026نیہا سنگھ راٹھوڑ کے ساتھ ساتھ کئی خواتین نے اپنے تجربات اور زندگی میں پیش آنے والے مسائل راہل گاندھی کے سامنے رکھے۔ آئیے ذیل میں پڑھتے ہیں کس نے اپنی باتیں کن الفاظ میں سامنے رکھیں...ایڈووکیٹ رماپرساد:میں نے اپنے شعبہ میں خواتین کو ایسے دقیانوسی تصورات کا سامنا کرتے دیکھا ہے جن کا سامنا مردوں کو نہیں کرنا پڑتا۔ مردوں کو زیادہ مواقع، نیٹورکنگ اور مقدمات ملتے ہیں۔مجھے یہاں تک کہا گیا ہے کہ میری ایل ایل ایم پر پیسے خرچ کرنا بیکار ہے، کیونکہ آخرکار میں خاندان کی پرورش کے لیے وکالت کرنا چھوڑ دوں گی۔ یہ دیکھنا دل توڑنے والا ہے کہ میری ڈگری کو میرے سی وی کی صرف ایک سطر تک محدود کر دیا جائے۔میں ایک پیغام دینا چاہتی ہوں: مجھے کسی بھی مرد کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔I’ve seen women in my field face stereotypes that men don’t. Men get more opportunities, networking, and cases.I’ve even been told that spending money on my LLM is a waste because I’ll eventually stop practising to raise a family. It’s heartbreaking to see my degree reduced to… pic.twitter.com/FusD59Qe3Q— Congress (@INCIndia) August 22, 2026دھیانیشوری:میں پونے، مہاراشٹر سے ہوں۔ میں نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ’کلچر، میڈیا اینڈ گورننس‘ میں ماسٹرز مکمل کیا ہے۔ 3 سال پہلے میرے والد کا کینسر کی تشخیص کے بعد انتقال ہو گیا۔ جب بھی میں جائیداد میں اپنے حصے یا ایک خاتون کی حیثیت سے کسی اور چیز کے لیے مطالبہ کرتی ہوں، تو یہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ اگر میرا بھائی اپنے حصے کا مطالبہ کرے تو اسے اس کا حق سمجھا جاتا ہے۔خواتین کو ہمیشہ ثانوی جنس کے طور پر دیکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ اس ملک میں برابر کے شہریوں جیسا سلوک نہیں کیا جاتا۔ یہ پدرشاہی کا مسئلہ ہے۔I am from Pune, Maharashtra. I completed my Master’s in Culture, Media and Governance from Jamia University, Delhi. I lost my father three years ago after he was diagnosed with cancer.Whenever I ask for my share of the property, or for anything else as a woman, it becomes an… pic.twitter.com/ds9x8suYQ8— Congress (@INCIndia) August 22, 2026سچترا پاگی:جب میں آٹھویں جماعت میں تھی تو اسکول سے واپس آتے وقت کچھ لڑکوں نے میرے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ میں نے اپنے والد سے بتایا تو انھوں نے میرا ساتھ دیا اور والدہ کے ساتھ بھیج کر پولیس میں شکایت کروائی۔ اس کے بعد ان لڑکوں کی خوب پٹائی ہے۔ لیکن جب میرے گاؤں کے لوگوں کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے میرے پاپا سے کہا کہ آپ کی بیٹی کی عزت چلی گئی ہے، اس کی پڑھائی چھڑوا دو۔जब मैं आठवीं क्लास में थी, तो स्कूल से लौटते वक्त मुझसे कुछ लड़कों ने छेड़छाड़ की।जब मेरे गांव के लोगों को इस बारे में पता चला, तो उन्होंने मेरे पापा से कहा कि आपकी बेटी की इज्जत चली गई है, इसकी पढ़ाई छुड़वा दो।: 'छात्रों की गूंज' कार्यक्रम में सुचित्रा पागी ने नेता विपक्ष… pic.twitter.com/O1wRDINryi— Congress (@INCIndia) August 22, 2026تیجسونی:میں ایک چھوٹے سے گاؤں سے آتی ہوں۔ بنیادی تعلیم کے بعد میں آگے پڑھنا چاہتی تھی، لیکن گھر والوں نے کہا ’’آگے پڑھنا ہے تو شادی کر لو اور سسرال جا کر پڑھ لینا۔‘‘ میں نے ٹھان لیا کہ میں خود کام کروں گی اور اپنی پڑھائی بھی جاری رکھوں گی۔ گزشتہ 5 سال سے میں ملازمت بھی کر رہی ہوں اور پڑھائی بھی۔میرے حالات دیکھتے ہوئے دوستوں نے مجھے سائیکل دلائی، لیکن راستے میں آئے دن چھیڑ چھاڑ اور بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں آواز اٹھانے سے ڈرتی ہوں، کیونکہ جب ملک کی خاتون پہلوانوں کی سماعت نہیں ہوئی تو میری کیا ہی ہوگی؟मैं एक छोटे से गांव से आती हूं। बेसिक शिक्षा के बाद मैं आगे पढ़ना चाहती थी, लेकिन घरवालों ने कहा- आगे पढ़ना है तो शादी कर लो और ससुराल जाकर पढ़ लेना।मैंने ठान लिया कि मैं खुद काम करूंगी और अपनी पढ़ाई भी जारी रखूंगी। पिछले 5 साल से मैं नौकरी भी कर रही हूं और पढ़ाई भी।मेरे… pic.twitter.com/BXkoxlk8vZ— Congress (@INCIndia) August 22, 2026میتری:حفاظت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ دیہی علاقوں کے والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے شہری علاقوں میں جا کر پڑھیں، جبکہ لڑکیوں کو اکثر حفاظتی خدشات کے باعث جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ لڑکیوں کے لیے تعلیم تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے۔"Safety is becoming a major concern. Parents from rural areas want their sons to go and study in urban areas, while girls are often not allowed to go due to safety concerns.Access to education has become very difficult for girls.": Maitri sharing her story with LoP Shri… pic.twitter.com/kNRhWhGfxs— Congress (@INCIndia) August 22, 2026شیخ آمنہ:ملک میں آج بھی کئی خاندان اپنی بیٹیوں کو صرف اس لیے نہیں پڑھا رہے ہیں، کیونکہ وہ ’لڑکی‘ ہے۔ کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر لڑکی پڑھ لکھ گئی تو معاشی طور پر خود مختار ہو جائے گی، جس سے لڑکیوں پر ان کا کنٹرول ختم ہو جائے گا۔देश में आज भी कई परिवार अपनी बेटियों को इसलिए नहीं पढ़ा रहे हैं, क्योंकि वो 'लड़की' है।कई लोगों को लगता है कि अगर लड़की पढ़-लिख गई तो इकोनॉमिकली इंडिपेंडेंट हो जाएगी, जिससे लड़कियों पर उनका कंट्रोल खत्म हो जाएगा। : 'छात्रों की गूंज' कार्यक्रम में शेख आमना ने नेता विपक्ष श्री… pic.twitter.com/WFMROhqDWQ— Congress (@INCIndia) August 22, 2026نشا:ہمیں قبائلی برادری کے ہاسٹل میں صرف 30 سال کی عمر تک رہنے کی اجازت ہے، جس کی ہم مخالفت کر رہے ہیں۔ حکومت بھی ہماری بات نہیں سن رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لیے ہاسٹل میں رہنے کی عمر 35 سال کی جائے۔हमें ट्राइबल कम्युनिटी के हॉस्टल में 30 साल की उम्र तक ही रहने की परमिशन है, जिसका हम विरोध कर रहे हैं।सरकार भी हमारी नहीं सुन रही है। हम चाहते हैं कि हमारे लिए हॉस्टल में रहने की उम्र 35 साल की जाए।: 'छात्रों की गूंज' कार्यक्रम में आदिवासी वर्ग की छात्रा निशा ने नेता विपक्ष… pic.twitter.com/XfrOHDeAKV— Congress (@INCIndia) August 22, 2026پراگیا کمار گاونڈے:آج پوری دنیا اے آئی اور سائبر سیکورٹی پر منحصر ہے۔ میں بھی شروع سے ہی اپنا کیریئر سائبر سیکورٹی کے شعبہ میں بنانا چاہتی تھی، لیکن مہنگی فیس اور معاشی طور پر کمزور ہونے کے باعث مجھے دوسرے کورس میں داخلہ لینا پڑا۔میرا سوال ہے کہ ایسے ضروری کورس سرکاری کالجوں میں کیوں نہیں ہیں اور معاشی طور پر کمزور طلبا کے لیے اسکالرشپ کیوں نہیں دی جاتی؟आज पूरी दुनिया AI और Cyber Security पर निर्भर है। मैं भी शुरू से ही अपना करियर Cyber Security की फील्ड में बनाना चाहती थी, लेकिन महंगी फीस और आर्थिक रूप से कमजोर होने के चलते मुझे दूसरे कोर्स में एडमिशन लेना पड़ा।सवाल है- ऐसे जरूरी कोर्स सरकारी कॉलेजों में क्यों नहीं हैं और… pic.twitter.com/fhrsBT7gXu— Congress (@INCIndia) August 22, 2026شرنی چوپڑے:ہمارا ایم پی ایس سی کا پرچہ لیک ہو گیا، لیکن اس بات کو دبایا جا رہا ہے۔ لڑکی ہونے کی وجہ سے ہمارے اوپر خاندان اور شادی کا بہت دباؤ رہتا ہے۔ ایسے میں پرچہ لیک ہونے سے ہمارا پورا کیریئر ختم ہونے کا خوف بنا رہتا ہے۔ ہم امتحان کے لیے دن رات پڑھائی کرتے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ صاف ستھرا اور شفاف امتحان کرایا جائے۔हमारा MPSC का पेपर लीक हो गया, लेकिन इसे छिपाया जा रहा है।लड़की होने के कारण हमारे ऊपर परिवार और शादी का बहुत प्रेशर रहता है। ऐसे में पेपर लीक से हमारा पूरा करियर खत्म होने का डर बना रहता है।हम परीक्षा के लिए दिन-रात पढ़ाई करते हैं, इसलिए हम चाहते हैं कि साफ-सुथरी और पारदर्शी… pic.twitter.com/YkZAioJXDB— Congress (@INCIndia) August 22, 2026