نیپال میں تباہناک سیلاب سے اتر پردیش کے 4 اور بہار کے 6 اضلاع میں خوف، مستقل چیک کی جا رہیں ندیوں کی سطح آب

Wait 5 sec.

چین کی سرحد سے متصل علاقوں میں بدھ کو اچانک آنے والے سیلاب نے نیپال میں بڑی تباہی مچائی ہے۔ تبت کی جانب سے آنے والے پانی کے تیز بہاؤ کے باعث تریشولی ندی کی سطح آب تیزی سے بڑھی اور اس نے نیپال کے علاقوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ اب تک 165 افراد کی موت سے متعلق تصدیق ہو گئی ہے اور کم و بیش 1000 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ تریشولی ندی میں آنے والی طغیانی اور سطح آب بڑھنے سے ہندوستان کے سرحدی علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ خاص طور سے اتر پردیش اور بہار کے سرحدی اضلاع پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اتر پردیش اور بہار کی حکومت نے ریڈ الرٹ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کو ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ دونوں ہی ریاستوں میں کئی ندیوں کی سطح آب مستقل چیک کی جا رہی ہیں۔#WATCH | Valmikinagar, West Champaran (Bihar): The administration is on high alert due to the apprehension of a rise in the Gandak River's water level following flash floods in Tibet and Nepal.West Champaran District Magistrate (DM) Taranjot Singh said, "Administrative… pic.twitter.com/yDG2oGcxyF— ANI (@ANI) August 26, 2026بتایا جا رہا ہے کہ نیپال کی بھوٹے کوشی اور تریشولی ندی کے بیراجوں سے کثیر مقدار میں پانی چھوڑے جانے کے بعد نارائنی ندی کی سطح آب بڑھ گئی ہے۔ نارائنی ندی کو ہندوستان میں گنڈک ندی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس لیے نیپال میں سطح آب بڑھنے کا براہ راست اثر گنڈک اور کوسی ندی کے پانی کے بہاؤ پر پڑ رہا ہے۔ اس سے بہار کے 6 اضلاع اور اتر پردیش کے 4 اضلاع میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔بہار کی صورت حالنیپال میں آئے شدید سیلاب اور گنڈک ندی میں ممکنہ طور پر بڑھتے ہوئے پانی کے بہاؤ کو دیکھتے ہوئے بہار کے 6 اضلاع میں خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہے۔ مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور ویشالی اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیتامڑھی، شیوہر اور دیگر حساس اضلاع میں بھی صورت حال پر مسلسل نظر رکھنے کو کہا گیا ہے۔Discharge(cusecs) at Gandak BarrageDate :27.08.2026At 12:00 AM- 1,50,200 (S)At 00:30 AM- 1,42,100 (F)At 01:00 AM- 1,29,000 (F)At 01:30 AM- 1,16,500 (F)At 02:00 AM- 1,04,400(F)At 02:30 AM- 95,200 (F)At 03:00 AM- 88,300 (F)At 03:30 AM- 83,900 (F)At 04:00 AM- 81,400 (F) pic.twitter.com/7gr1z77E4a— Water Resources Department, Government of Bihar (@WRD_Bihar) August 27, 2026بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے تمام ضلع افسران کو ندی کی سطح آب، پشتوں، نشیبی علاقوں، پلوں اور دیگر حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور مقامی برادری کو بروقت الرٹ کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ بہار حکومت نے سیلاب راحت کاری کے لیے ٹیمیں تعینات کی ہیں، خاص طور پر مغربی چمپارن اور مظفرپور میں۔ اس کے علاوہ این ڈی آر ایف نے بہار میں پہلے ہی 10 ٹیمیں بھیج دی ہیں۔نیپال میں آئے سیلاب سے بہار کے والمیکی نگر بیراج سے گنڈک ندی میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔ گنڈک بیراج میں بدھ کی رات 8 بجے تک سطح آب معمول پر تھی، لیکن اس کے بعد پانی تیزی سے بڑھا اور رات 11 بجے تک ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی والمیکی نگر بیراج میں پہنچ گیا۔ مغربی چمپارن کے نشیبی علاقوں سے 5 ہزار سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بہار کے متعلقہ اضلاع میں خصوصی احتیاط برتنے اور تمام ضروری تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔اتر پردیش کی صورت حالنیپال میں آئے بھیانک سیلاب کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کشی نگر اور مہاراج گنج میں گنڈک ندی کی سطح آب میں اضافے اور سیلاب کے امکان کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ کو پوری طرح مستعد رہنے اور ضروری تیاریاں یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ مہاراج گنج، گورکھپور، سدھارتھ نگر، کشی نگر اور آس پاس کے نیپال کی سرحد سے متصل علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔نیپال میں ہونے والے بڑے نقصان کے بعد گنڈک اور دیگر ندیوں میں پانی کا دباؤ بڑھنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش کے پوروانچل کے اضلاع میں پوری طرح مستعد رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ندی کا پانی بڑھنے کی صورت میں نشیبی علاقوں میں پانی پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر دیہی لوگوں سے محفوظ اور اونچی جگہوں کی جانب جانے کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مہاراج گنج کے ضلع مجسٹریٹ گورو سنگھ سوگروال نے کہا کہ بھوٹے کوشی-تریشولی ندی میں سطح آب بڑھنے کے باعث نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر گنڈک ندی کی سطح آب کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ندی کے کنارے رہنے والے لوگ محتاط رہیں، ندی نالوں اور پانی جمع ہونے والے علاقوں کے قریب نہ جائیں، بچوں، بزرگوں اور مویشیوں کو بھی دور رکھیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔