نئی دہلی: کانگریس کے قومی خزانچی، رکن پارلیمنٹ اور سینئر لیڈر اجے ماکن نے الزام عائد کیا ہے کہ انڈین ریلوے میں عام مسافروں، مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور مریضوں کے لیے سب سے سستی سمجھی جانے والی 999 مسافر ٹرینوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹرینوں میں ریزرویشن کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، اسی لیے یہ ایسے لوگوں کے لیے سفر کا سب سے قابلِ رسائی ذریعہ تھیں جنہیں کام، بیماری یا امتحان کے باعث اچانک سفر کرنا پڑتا ہے۔اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران میل اور ایکسپریس ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا، لیکن اس کے ساتھ عام خاندان کی پہنچ میں آنے والی سستی ٹرینوں کا حصہ کم ہوتا گیا۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ریلوے میں مجموعی طور پر ٹرینیں کم ہو گئی ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے دستیاب سستا سفر محدود ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013-14 سے 2024-25 کے درمیان ریلوے کے کل مسافروں کی تعداد 839.7 کروڑ سے گھٹ کر 729.3 کروڑ رہ گئی۔ اس طرح تقریباً 110 کروڑ سفر کم ہوئے، جو 13.2 فیصد کی کمی کے برابر ہے۔ ماکن نے اس کمی کو ایسے وقت میں نمایاں قرار دیا جب ملک کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ عام مسافروں نے مہنگی ٹکٹ کا انتخاب اپنی مرضی سے نہیں کیا، بلکہ ان کے لیے دستیاب سستی ٹرین ہی ختم کر دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر میل اور ایکسپریس ٹرینیں بڑھائی گئیں تو عام مسافر، جو زیادہ کرایہ برداشت نہیں کر سکتا، کہاں جائے؟ویڈیو پیغام میں بھی اجے ماکن نے اسی معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جو ٹرین عام آدمی استعمال کرتا تھا، وہ اب کئی اسٹیشنوں پر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ 999 سادہ مسافر ٹرینیں بند کی گئی ہیں اور یہ سب سے سستی ٹرینیں تھیں، کیونکہ ان میں ریزرویشن کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ان کے مطابق مزدور، کسان، طالب علم اور مریض بڑی تعداد میں انہی ٹرینوں سے سفر کرتے تھے۔Nine hundred and ninety nine ordinary passenger trains have been withdrawn.These were the cheapest trains on Indian Railways, and the only ones a person could board without a reservation. That is what made them the trains of the worker and the farmer and the student and the… pic.twitter.com/fWABeOLWJs— Ajay Maken (@ajaymaken) August 26, 2026اجے ماکن نے کہا کہ اسی عرصے میں کچھ میل اور ایکسپریس ٹرینیں ضرور شامل کی گئیں، اس لیے مجموعی طور پر ٹرینوں کی تعداد کم ہونے کا سوال نہیں ہے؛ اصل کمی سستی ٹرینوں میں ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریلوے صرف زیادہ کرایہ ادا کرنے والوں کے لیے نہیں بلکہ ہر شہری کی ملکیت ہے۔