امریکا کو تمام معاشی نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ

Wait 5 sec.

تہران (27 اگست 2026): ایران نے بدھ کے روز کہا کہ امریکا پر اس کی یک طرفہ پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کی بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اسے مکمل معاوضہ ادا کرنا ہوگا، جس میں سابقہ حالت کی بحالی اور تلافی بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک پیغام میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی کی مہم‘‘ قرار دیا، جو یک طرفہ جبری اقدامات کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ اقدامات غیر قانونی ہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے مطابق عراقچی نے کہا ’’اسلامی جمہوریہ ایران جواب دہی، معاوضے اور تدارک کے حصول کے لیے تمام دستیاب ذرائع اختیار کرنے، اور ان غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات کے مرتکب افراد کو جواب دہ ٹھہرانے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘‘انھوں نے کہا کہ امریکی مہم ’’بین الاقوامی ذمہ داری کو جنم دیتی ہے، جس میں بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام مادی اور اخلاقی نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کرنے کی ذمہ داری بھی شامل ہے، جس میں سابقہ حالت کی بحالی اور تلافی شامل ہیں۔‘‘عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا پر ’’مکمل بین الاقوامی ذمہ داری‘‘ عائد ہوتی ہے اور اگر متعلقہ قانونی نکات ثابت ہو جائیں، تو اسے ’’ایران کے عوام کو پہنچنے والے نقصان اور غیر قانونی اور مجرمانہ اقدامات‘‘ کے نتائج کے لیے انفرادی فوجداری ذمہ داری کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’ٹرمپ انتظامیہ ایران کے تمام معاشی ذرائع ختم کرتی رہےگی‘انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کی جانب سے ’’یک طرفہ جبری اقدامات اور ثانوی پابندیوں‘‘ کے استعمال کی مذمت اور اسے مسترد کریں۔ ان اقدامات کا مقصد خودمختار ریاستوں پر دباؤ ڈال کر انھیں اپنے جائز اقتصادی مفادات اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ایران نے ممالک سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کو تسلیم، منظور یا نافذ نہ کریں جن کا مقصد ان کے خودمختار حقوق کو واشنگٹن کی جانب سے یک طرفہ طور پر طے کی گئی پالیسیوں سے وابستہ کرنا ہو۔ عراقچی نے امریکا پر زور دیا کہ وہ ’’فوری طور پر ان دھمکیوں اور جبری اقدامات کو روک دے جن کا مقصد تیسرے ممالک اور ان کے شہریوں کو اپنے جائز اقتصادی تعلقات اور مفادات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔‘‘انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کے انسانی اور انسانی حقوق سے متعلق نتائج کا جائزہ لیں اور ان پر رپورٹ پیش کریں، جن میں شہریوں کی خوراک، ادویات، صحت کی نگہداشت، توانائی، نقل و حمل اور انسانی امداد تک رسائی پر ان کے اثرات بھی شامل ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ مستقبل میں جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ شواہد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا جانا، انھیں دستاویزی شکل دینا اور محفوظ رکھنا چاہیے۔واضح رہے کہ پیر کے روز ٹرمپ انتظامیہ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ شروع کیا ہے، جو پابندیوں کی ایک وسیع مہم ہے اور جس کا مقصد ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا ہے۔