نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں تباہ کن سیلاب، اموات 472 ہوگئیں، 1400 افراد لاپتا

Wait 5 sec.

کٹھمنڈو : نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 472 تک پہنچ گئی جبکہ 1400 افراد لاپتا ہے۔تفصیلات کے مطابق نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں خوفناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے، رواں ہفتے آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 472 ہوگئی جبکہ تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔نیپال پولیس نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کیچڑ اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے دوران زندہ بچ جانے والوں کی امیدیں کم ہوتی جارہی ہیں لیکن ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری اور سرچ ڈاگز کی مدد سے ملبہ ہٹا کر لاپتا افراد کی تلاش کررہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بدھ کی صبح ہمالیائی خطے میں گلیشیئر کے ٹوٹنے سے چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے پر مشتمل پانی کا ایک بڑا ریلا دریائی نظام میں داخل ہوا، جس نے راستے میں آنے والے دیہات اور وادیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔سیلاب سے بجلی گھر، سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے جبکہ کٹھمنڈو کو تبت کے لہاسا سے ملانے والا اہم راستہ بھی متاثر ہوا، یہ علاقہ ٹریکرز اور زائرین کے لیے بھی معروف ہے، لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت سے پانچ سو پچپن سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نکالے گئے سیاحوں کی شہریت کیا تھی۔ نیپال میں حکام ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے اور ہنگامی امدادی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔تبت کے گیئرونگ کاؤنٹی میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چینی حکام کے مطابق اب تک چینی علاقے میں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔سیلابی ریلے نے گیئرونگ بارڈر کراسنگ کو بھی شدید متاثر کیا، جہاں مٹی اور ملبے کے بڑے ریلے نے چند لمحوں میں متعدد تنصیبات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ امدادی ٹیمیں اہم رسائی سڑک سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے بھی متاثرہ گیئرونگ علاقے کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔