واشنگٹن: امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن سینیٹر مارک کیلی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق امریکی بحریہ کے جنگی پائلٹ مارک کیلی کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کی قیمت امریکی عوام کو پیٹرول اور اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پاس محدود راستے باقی رہ گئے ہیں جن میں زمینی فوج بھیج کر جنگ کو مزید بڑھانا، مکمل طور پر پیچھے ہٹنا یا معاشی دباؤ بڑھانے کے ساتھ یورپی اتحادیوں کے ساتھ دوبارہ اتحاد مضبوط کرنا شامل ہے۔مارک کیلی نے خبردار کیا کہ زمینی فوج بھیجنے کی صورت میں ہزاروں امریکی فوجیوں کی جانیں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ ڈیڑھ سال کے دوران یورپی اتحادیوں کے ساتھ امریکی تعلقات بھی کمزور ہوئے ہیں۔امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ یہ بحران صدر ٹرمپ کی خود کی جانب سے پیدا کردہ صورتِ حال کا نتیجہ ہے، ہر معاملے میں دوسروں سے زیادہ بہتر جاننے کے اصرار نے ٹرمپ کے لیے بہتر راستے محدود کر دیے ہیں۔امریکی صدر نے خود کو امریکا کا عظیم ترین صدر قرار دے دیاایران پر بمباری کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مارک کیلی نے کہا کہ بعض حملوں میں معصوم ایرانی بچے زندگیوں سے محروم ہوگئے جو کوئی اچھا منصوبہ نہیں تھا۔رپورٹس کے مطابق مزید کہنا تھا کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات دوبارہ مضبوط کرنا بہتر حکمتِ عملی ہے۔