مودی حکومت پر اجے ماکن کا حملہ، کہا- ’مُدرا اسکیم میں غریبوں کے 1.38 کروڑ شِشو اکاؤنٹس ختم، بڑے قرضوں کی طرف گیا پیسہ‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اجے ماکن نے مُدرا اسکیم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھوٹے کاروبار اور خود روزگار شروع کرنے کے لیے بنائی گئی پردھان منتری مُدرا یوجنا میں غریب اور چھوٹے قرض لینے والوں کے لیے مختص ’شِشو‘ زمرے کے اکاؤنٹس میں بڑی کمی آئی ہے، جبکہ بڑے قرضوں والے زمروں میں اضافہ ہوا ہے۔اجے ماکن نے جمعہ کو ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اپنی رپورٹ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اپنا چھوٹا کام شروع کرنے والوں کے ہاتھ سے بغیر ضمانت والا قرض نکل گیا اور وہی رقم بڑے قرضوں میں منتقل ہو گئی۔انہوں نے بتایا کہ مُدرا یوجنا ریہڑی پٹری والوں، چھوٹی دکان چلانے والوں اور گھر سے کاروبار کرنے والے افراد کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس اسکیم کے تحت بغیر کسی ضمانت کے قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے چھوٹی ’شِشو‘ کیٹیگری میں 50 ہزار روپے تک، ’کِشور‘ میں 5 لاکھ روپے تک اور ’ترون‘ میں 10 لاکھ روپے تک قرض دیا جاتا ہے۔ماکن کے مطابق، ایک سال کے دوران شِشو زمرے کے قرض کھاتوں کی تعداد تقریباً 4 کروڑ 16 لاکھ سے گھٹ کر 2 کروڑ 77 لاکھ رہ گئی۔ ان کے مطابق یہ ایک کروڑ 38 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس کی کمی ہے، جو تقریباً 33.4 فیصد بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حساب سے روزانہ اوسطاً تقریباً 38 ہزار شِشو اکاؤنٹس کم ہوئے۔کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ شِشو زمرے سے ختم ہونے والے ہر آٹھ اکاؤنٹس میں سے صرف ایک اکاؤنٹ ’کِشور‘، ’ترون‘ یا ’ترون پلس‘ زمرے میں پہنچا۔ ان تینوں زمروں کو ملا کر اسی مدت میں 18 لاکھ سے بھی کم اکاؤنٹس بڑھے۔ ماکن کے مطابق، باقی تقریباً 1.21 کروڑ اکاؤنٹس کسی دوسرے زمرے میں منتقل نہیں ہوئے اور اسکیم سے ہی باہر ہوگئے۔انہوں نے مزید کہا کہ مُدرا کے مجموعی اکاؤنٹس میں 18.1 فیصد کمی ہوئی، لیکن تقسیم کی گئی مجموعی رقم میں 1.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ماکن کے مطابق، شِشو زمرے میں 44,360 کروڑ روپے کم ہوئے، جبکہ کِشور، ترون اور ترون پلس زمروں میں مجموعی طور پر 53,804 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ماکن نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رقم میں کمی نہیں ہوئی، بلکہ قرض کا رخ بدل گیا۔ ان کے بقول، جس 50 ہزار روپے تک کے قرض لینے والے کے لیے اسکیم بنائی گئی تھی، اس سے رقم نکل کر لاکھوں روپے کے قرض لینے والوں تک پہنچ گئی۔انہوں نے خاص طور پر ’ترون پلس‘ زمرے کا ذکر کیا، جو اسی سال متعارف کرایا گیا۔ ماکن کے مطابق اس زمرے میں 30,427 اکاؤنٹس کھولے گئے اور اوسط قرض تقریباً 13.7 لاکھ روپے رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہی سال میں 50 ہزار روپے تک کے قرض والے شِشو اکاؤنٹس کا تقریباً ایک تہائی حصہ ختم ہوگیا، جبکہ اس کے مقابلے میں تقریباً 27 گنا بڑے اوسط قرض کی نئی کیٹیگری شروع کی گئی۔सरकार की अपनी रिपोर्ट गवाह है: अपना छोटा काम शुरू करने वालों के हाथ से बिना गारंटी वाला कर्ज़ निकल गया, और वही पैसा बड़े कर्ज़ों में चला गया।मुद्रा योजना रेहड़ी, छोटी दुकान और घर से चलने वाले कारोबार के लिए बनी थी: बैंक से बिना गारंटी कर्ज़, यानी उनके लिए जिनके पास गिरवी रखने… pic.twitter.com/grczkxT2b0— Ajay Maken (@ajaymaken) August 28, 2026اجے ماکن نے الزام لگایا کہ غریبوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی اسکیم اب غریبوں تک نہیں پہنچ رہی اور حکومت خود روزگار کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ماکن نے اپنے دعووں کے ماخذ کے طور پر مُدرا کی سالانہ رپورٹ 2024-25 کی جدول 4، صفحہ 10 اور سالانہ رپورٹ 2023-24 کی جدول 4، صفحہ 9 کا حوالہ دیا ہے۔