سری لنکا کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز 0-1 سے جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کے لیے ’ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ‘ (ڈبلیو ٹی سی) میں فائنل کی راہ مشکل ضرور دکھائی دے رہی ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ کولمبو ٹیسٹ میچ میں ہندوستانی ٹیم ایک وقت مقابلے میں جیت سے صرف چند قدم دور تھی، لیکن سونل دنوشا کی ناٹ آؤٹ 133 رنز کی اننگ نے مقابلہ ڈرا کرا دیا۔ہندوستانی ٹیم اگر یہ میچ جیت جاتی تو 12 ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ملتے، لیکن ڈرا سے صرف 4 پوائنٹس ملے۔ یہی فرق اب فائنل کی دوڑ میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اب ہندوستانی ٹیم کے لیے موجودہ ڈبلیو ٹی سی سائیکل میں باقی ساتوں ٹیسٹ میچ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔ہندوستان نے کولمبو ٹیسٹ میں اپنی پہلی اننگ 9/503 کے اسکور پر ڈکلیئر کی۔ پھر سری لنکا کو پہلی اننگ میں 290 رنز پر سمیٹ کر بڑی برتری حاصل کی تھی۔ فالو آن دینے کے بعد بھی ہندوستانی گیند باز سری لنکا کو آل آؤٹ نہیں کر سکے۔ سونل دنوشا نے مورچہ سنبھالا اور سری لنکا کو شکست سے بچا لیا۔ کولمبو میں جیت ہندوستان کے ڈبلیو ٹی سی کے حساب کتاب کو کافی مضبوط کر دیتی۔ جیت کے بعد ہندوستان کا پوائنٹ فیصد 51.51 سے بڑھ کر 63.33 فیصد ہو جاتا اور ٹیم بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ کر پوائنٹس ٹیبل میں چوتھے مقام پر پہنچ جاتی۔ لیکن ڈرا کی وجہ سے ہندوستان 51.51 فیصد پوائنٹس کے ساتھ پانچویں مقام پر ہی ہے۔ یعنی سری لنکا میں سیریز جیتنے کے باوجود ٹیم انڈیا ڈبلیو ٹی سی فائنل کی دوڑ میں وہ برتری حاصل نہیں کر سکی، جس کی اسے ضرورت تھی۔ڈبلیو ٹی سی کے موجودہ سائیکل (27-2026) میں ہندوستان کو ابھی 7 ٹیسٹ کھیلنے ہیں اور یہی مقابلے طے کریں گے کہ ٹیم فائنل تک پہنچ پائے گی یا نہیں۔ ہندوستان کو اسی سال نیوزی لینڈ کے خلاف اس کی سرزمین پر 2 ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں۔ پھر اگلے سال ہندوستانی ٹیم 5 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کی میزبانی کرے گی۔ ان سات مقابلوں میں ہندوستان کے پاس اپنی صورتحال بدلنے کا کافی موقع ہے، لیکن اب کسی بھی میچ میں پوائنٹس گنوانا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اگر ہندوستان اپنے باقی تمام ساتوں ٹیسٹ میچ جیت لیتا ہے تو اس کا پوائنٹ فیصد 70.37 تک پہنچ جائے گا۔ ایسا ہونے پر وہ فائنل کے لیے آسانی سے کوالیفائی کر جائے گا۔ ہندوستان کے لیے چھ جیت اور ایک شکست کا حساب بھی خراب نہیں ہوگا۔ اس صورتحال میں ٹیم تقریباً 65 فیصد پوائنٹس پر ختم کرے گی، جو گزشتہ ڈبلیو ٹی سی سائیکل کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے فائنل کی دوڑ میں مضبوط اسکور ہو سکتا ہے۔ہندوستان کے سامنے سب سے پہلے نیوزی لینڈ کا چیلنج ہوگا۔ بیرون ملک ہونے والی یہ ٹیسٹ سیریز ڈبلیو ٹی سی ٹیبل میں ٹیم کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر ہندوستان نیوزی لینڈ میں دونوں ٹیسٹ جیتتا ہے تو آسٹریلیا کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز سے پہلے اس کے پاس اچھی صورتحال میں پہنچنے کا موقع ہوگا۔ لیکن اگر وہاں پوائنٹس گنوائے گئے تو ہوم سیریز میں دباؤ اور بڑھ جائے گا۔ نیوزی لینڈ کے بعد ہندوستان کو آسٹریلیا کے خلاف پانچ ٹیسٹ کی گھریلو سیریز کھیلنی ہے۔ آسٹریلیا فی الحال ڈبلیو ٹی سی ٹیبل میں سرفہرست ٹیموں میں ہے، اس لیے یہ سیریز ہندوستان کے لیے دوہری اہمیت رکھتی ہے۔ ہندوستان یہاں نہ صرف اپنے کھاتے میں پوائنٹس جوڑ سکتا ہے، بلکہ براہِ راست اپنے اہم حریف کے پوائنٹ فیصد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔اگر ہندوستان نیوزی لینڈ کے خلاف دونوں ٹیسٹ ہار جاتا ہے تو ڈبلیو ٹی سی فائنل کی راہ مشکل ہو جائے گی۔ ایسی صورتحال میں آسٹریلیا کو 0-5 سے ہرانے کے باوجود ہندوستان کا آخری پوائنٹ فیصد تقریباً 59.26 فیصد ہی رہے گا۔ اس کے بعد ہندوستان کو صرف اپنی کارکردگی پر انحصار کرنے کے بجائے دوسری ٹیموں کے نتائج کا بھی انتظار کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز ہندوستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ وہاں ایک بھی ٹیسٹ ہارنے سے آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی پانچ میچوں کی سیریز کی اہمیت اور بڑھ جائے گی۔گزشتہ 2 ڈبلیو ٹی سی سائیکلوں میں فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کا پوائنٹ فیصد الگ الگ رہا ہے۔ گزشتہ سائیکل میں جنوبی افریقہ نے 69.44 اور آسٹریلیا نے 67.54 فیصد پوائنٹس کے ساتھ فائنل میں جگہ بنائی تھی۔ 2023 کے ڈبلیو ٹی سی سائیکل میں آسٹریلیا 66.67 فیصد پوائنٹس کے ساتھ فائنل میں پہنچا تھا، جبکہ ہندوستان نے 58.80 فیصد کے ساتھ فائنل کا ٹکٹ حاصل کیا تھا۔ اس لیے ہندوستانی ٹیم کے لیے ابھی صورتحال پوری طرح خراب نہیں ہے۔ ٹیم کے پاس 7 ٹیسٹ باقی ہیں اور فائنل کی دوڑ میں وہ پوری طرح بنی ہوئی ہے۔