برسلز (24 اگست 2026): یورپ نے بھی اسرائیلی ای ون (E1) آبادکاری منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے، اور اسرائیلی حکومت سے ای ون منصوبے کا ٹینڈر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔یورپی یونین نے اسرائیل سے یروشلم کے قریب، مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے E1 یہودی بستی کی تعمیرات کے لیے جاری کیے گئے ٹینڈر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ اسرائیلی یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔اتوار کو یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے کہا کہ E1 یہودی بستی منصوبہ مشرقی یروشلم کو الگ تھلگ کر کے ”دو ریاستی حل کے امکانات کو بنیادی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔“ بیان میں اسرائیلی حکومت سے تمام اقسام کے یہودی بستیوں کی توسیع کے منصوبے روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔بیان کے مطابق اس منصوبے کے تحت مجوزہ تعمیرات سے ”مغربی کنارا دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اور مشرقی یروشلم الگ تھلگ ہو جائے گا“ جس سے ”دو ریاستی حل کے قابلِ عمل ہونے کے امکانات“ مزید کمزور ہو جائیں گے۔اسرائیلی ٹینڈر پر برطانیہ نے احتجاجاً ناظم الامور کو طلب کر لیانمائندہ اعلیٰ نے بیان میں کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کی ریکارڈ سطح دیکھی جا رہی ہے، اسرائیلی حکومت اس تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائے، ٹینڈر واپس لے اور E1 منصوبے کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کی توسیع کے دیگر تمام منصوبے بھی روکے۔واضح رہے کہ E1 یہودی بستی منصوبے کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے لیے 1,200 سے زائد رہائشی یونٹس تعمیر کیے جانے ہیں۔ اس منصوبے کی مختلف ممالک کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا چکی ہے، جن میں بیلجیئم، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدر لینڈز، ناروے اور کینیڈا بھی ایک مشترکہ بیان میں تعمیراتی ٹینڈرز جاری کرنے کا فیصلہ ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں۔ برطانیہ نے اسرائیل کی جانب سے نئے متنازع یہودی آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی ناظم امور کو طلب کر کے احتجاج بھی کیا تھا۔