لندن (24 اگست 2026): ایران کے ساتھ تقریباً 6 ماہ کی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران نے امریکا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں اور طیاروں کو ایرانی حملوں کی زد سے باہر اسرائیل، اردن اور دیگر دور دراز مقامات پر منتقل کرے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ان تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے پر ازسرنو غور کیا جائے۔امریکا میں مہنگائی مزید بڑھنے کا امکان ہے، صدر فیڈرل ریزرو بینک نیل کشکری نے خبردار کر دیاواشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ تاہم پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جنگ کی اپنی لاگت کے اندازوں میں ان اڈوں کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔چار دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی موجودگی خلیج کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے بڑے فوجی اڈوں کے ایک وسیع نیٹ ورک پر قائم رہی ہے، لیکن ایران نے امریکی تنصیبات پر مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے، جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ایران کے ساحلوں کے اتنے قریب واقع یہ بڑے فوجی اڈے کس قدر کمزور ہیں۔