واشنگٹن (24 اگست 2026): منیاپولس کے فیڈرل ریزرو بینک کے صدر نیل کشکری نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ اور کینیڈا ٹیرف والے معاملے کے باعث امریکا میں مہنگائی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے نیل کشکری کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں اور کینیڈا کے ساتھ ٹیرف کی کشمکش میں جتنا زیادہ ’ادھر اُدھر کا سلسلہ‘ جاری رہے گا، ملک میں افراطِ زر اتنا ہی طویل ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا خلیج فارس میں کشیدگی سے امریکا میں مہنگائی کو 2 فی صد کے ہدف تک لانا مشکل ہوگا، تیل اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ امریکی معیشت پر مہنگائی کا دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔نیل کشکری نے کہا امریکا اور کینیڈا کے درمیان حالیہ دنوں میں جو کشیدہ تجارتی صورتِ حال عروج پر پہنچی ہے، اگر وہ اسی طرح جاری رہی تو کینیڈا کے ساتھ ٹیرف کی یہ کشمکش امریکی افراطِ زر کو طویل کر سکتی ہے۔امریکا کی اقتصادی جنگ، ایرانی رہنما سر جوڑ کر بیٹھ گئےنیل کشکری نے ’’فیس دی نیشن وِدھ مارگریٹ برنن‘‘ پروگرام میں کہا ”تجارتی محاذ پر جتنا زیادہ ادھر اُدھر کا سلسلہ جاری رہے گا، بالکل اسی طرح جیسے ایران کے تنازع میں جتنا زیادہ ادھر اُدھر کا سلسلہ جاری رہے گا، اس کے اثرات اور افراطِ زر کا دورانیہ اتنا ہی طویل اور مؤخر ہوتا جائے گا۔“امریکا نے ہفتے کے روز کینیڈا سے آنے والی مصنوعات پر 50 فی صد ٹیرف عائد کرنا شروع کر دیا ہے، کیوں کہ مذاکرات کار اہم شراکت دار ممالک کے درمیان تجارت کے حوالے سے جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ہفتے کے روز کہا کہ کینیڈین حکام کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے فی الحال کوئی نیا منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے۔دوسری جانب، کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکا کے خلاف نئے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کی تفصیلات اس ہفتے سامنے آنے کی توقع ہے، جب کہ ان کے نفاذ کی منصوبہ بندی 8 ستمبر سے ہے۔ توقع ہے کہ ان ٹیرف کا ہدف اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو آلات، زرعی سازوسامان، گودا (پلپ)، کاغذ اور الیکٹرانکس ہوں گے۔نیل کشکری نے امریکا کی موجودہ معاشی صورتِ حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے افراطِ زر بلند سطح پر ہے، اور ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ رسدی جھٹکے (سپلائی شاکس) رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ”ان رسدی جھٹکوں میں سے ایک تجارت اور ٹیرف کے تنازعات ہیں۔“منیاپولس فیڈرل ریزرو بینک کے صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بھی افراطِ زر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے، کیوں کہ توانائی کی قیمتوں کا امریکی معیشت پر بہت وسیع اثر پڑتا ہے۔