تہران (27 اگست 2026): ایران نے کہا ہے کہ پروٹوکول مقرر کرنے سے پہلے آئی اے ای اے کو تباہ شدہ ایٹمی سائٹ کے معائنے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ایران کی جوہری توانائی تنظیم (AEOI) کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ان جوہری تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ نہیں کر سکتی جو فوجی حملے کا نشانہ بنی ہیں، جب تک ایسی تنصیبات کے معائنے کے لیے مخصوص قواعد اور ضوابط مرتب کرکے منظور نہ کر لیے جائیں۔انھوں نے کہا امریکا، اسرائیل آئی اے ای اے پر ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کے لیے پارلیمنٹ کا منظور کردہ قانون ہمارے لیے معیار ہے۔ٹرمپ نے کہا: ’’مجھے نہیں لگتا مجتبیٰ خامنہ ای کا انتقال ہو چکا ہے‘‘ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ نے کہا کہ آئی اے ای اے کے پاس حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے کا واضح طریقۂ کار نہیں ہے، جب کہ امریکا اسرائیل ایرانی جوہری مراکز کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں، لیکن جنگی صورت حال کے باعث متاثرہ جوہری تنصیبات تاحال معائنے کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔انھوں نے کہا جو تنصیبات فوجی حملوں کا نشانہ بنی ہیں وہ تمام ایجنسی کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور ایجنسی ان کا مسلسل معائنہ کرتی رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ایجنسی نے ان حملوں پر نہ تو احتجاج کیا اور نہ ہی ان کی مذمت کی ہے جو اس کی کارکردگي پر سوالیہ نشان ہے۔