’40 سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری‘، نیتی آیوگ کی رپورٹ پر پرینکا گاندھی نے مرکز پر کیا حملہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی، 24 اگست: کانگریس کی رکن پارلیمان پرینکا گاندھی نے روزگار کے معاملے پر نیتی آیوگ کی حالیہ رپورٹ کو لے کر مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ ہے، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی، مایوسی اور ناامیدی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر مینوفیکچرنگ اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں میں پیدا ہونے والی بے چینی طلبہ کے احتجاج میں بھی نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال ایک ناکام تعلیمی نظام اور گزشتہ 12 برسوں میں روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ گزشتہ 40 سال میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہ واضح ہے کہ نوجوانوں میں بہت بے چینی، مایوسی اور ناامیدی ہے۔ ہم نے اسے طلبہ کے احتجاج میں دیکھا ہے۔‘‘کانگریس رکن پارلیمان نے الزام لگایا کہ حکومت نے مینوفیکچرنگ اور ایم ایس ایم ای شعبے پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی پالیسیاں بھی ہیں جو چھوٹے کاروباروں، روزگار فراہم کرنے والوں اور زرعی شعبے کو کمزور کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس گزشتہ کچھ عرصے سے ان مسائل کو مسلسل اٹھاتی رہی ہے۔دوسری جانب نیتی آیوگ کی حالیہ رپورٹ میں ملک کے افرادی قوت اور طلبہ کو پانچ زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے روزگار، تعلیم اور ہنرمندی سے متعلق چیلنجز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 8.7 کروڑ نوجوان ایسے ہیں، جو نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ روزگار میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔The unemployment rates are the highest they have ever been in 40 years. There's a lot of unrest, disappointment, and frustration among the youth. It's a combination of a failed education system and no job creation in the last 12 years.So, there's been no emphasis on MSMEs,… pic.twitter.com/en8i2A0gfW— Congress (@INCIndia) August 24, 2026نیتی آیوگ نے ایسے نوجوانوں کے لیے سستی یا سبسڈی والی تربیت، خود روزگار کے مواقع اور مقامی ضرورتوں کے مطابق ہنرمندی کے پروگرام بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم، روزگار اور تربیت سے باہر نوجوانوں اور خواتین کو کم لاگت یا سبسڈی والے تربیتی مواقع کے ساتھ ضرورت کے مطابق مالی مدد بھی فراہم کی جانی چاہیے۔رپورٹ کے مطابق ایسے نوجوانوں کو آمدنی نہ ہونے کے ساتھ اپنی سابقہ تعلیم پر ہونے والے اخراجات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ پہلے ہی کالج فیس اور کئی صورتوں میں نجی ٹیوشن کے اخراجات کے دباؤ میں رہتے ہیں۔ ایسے میں روایتی ڈگری کے ساتھ اضافی اسکل ٹریننگ کا خرچ اٹھانا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ نیتی آیوگ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور خود روزگار کے درمیان بہتر ربط پیدا کرنے کی ضرور بھی اجاگر کی ہے۔