عراق کا بڑا فیصلہ

Wait 5 sec.

بغداد(24 اگست 2026): عراق کے قومی سلامتی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کے بعد مسلح گروہوں کے ہتھیار مرحلہ وار حکومت کے کنٹرول میں لائے جائیں گے۔عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال 30 ستمبر کو بین الاقوامی اتحاد کے مکمل انخلا کے بعد حکومت مسلح گروہوں کے پاس موجود ہتھیاروں کو مرحلہ وار اپنے کنٹرول میں لینے کا عمل شروع کرے گی۔قاسم الاعرجی نے واضح کیا کہ حکومت کے لیے کسی بھی قسم کی فوجی محاذ آرائی ایک ’ریڈ لائن‘ ہے، اور مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کا یہ اقدام عراق کے لیے ایک حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس ہدف کو محاذ آرائی کے بجائے باہمی مذاکرات کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی۔قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ ان گروہوں کے ہتھیار صرف ریاست اور حکومت کے زیرِ استعمال ہوں گے اور انہیں کسی بھی غیر ملکی فریق کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے تمام سیاسی دھارے اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ جنگ اور امن سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے کا اختیار صرف اور صرف ریاست اور حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔