واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نئے ایچ-ون بی ویزوں پر ایک لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر کی فیس مستقل کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔یہ ویزا امریکا میں ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ غیرملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے پیر کو فیڈرل رجسٹر میں شائع کی گئی مجوزہ قانون سازی کے تحت ایچ-ون بی ویزا کی فیس 1 لاکھ 3ہزار265 ڈالر مقرر کی جائے گی، جسے رواں سال کے اختتام تک حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال بھی عارضی طور پر یہ فیس عائد کی تھی، تاہم جون میں ایک وفاقی جج نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو فیس وصول کرنے سے روک دیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف اپیل پر بوسٹن کی ایک عدالت میں کارروائی جاری ہے جبکہ ایک دوسری عدالت بھی اس فیس کے خلاف دائر مقدمے کا جائزہ لے رہی ہے۔ٹرمپ کی جانب سے عائد عارضی اضافی فیس کی مدت ستمبر میں ختم ہورہی ہے، نئی تجویز کا مقصد اس فیس کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنا ہے۔ ایچ ون بی ویزا پروگرام کیا ہے؟یاد رہے کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام 1990 میں امریکی کانگریس نے متعارف کرایا تھا، اس پروگرام کے تحت امریکی کمپنیاں مختلف شعبوں خصوصاً ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میڈیکل اور تحقیقاتی میدانوں میں غیر ملکی ماہرین کو عارضی ملازمت کے لیے امریکا لا سکتی ہیں۔موجودہ قوانین کے تحت ایچ ون بی ویزا پروگرام میں سالانہ 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے اضافی 20 ہزار ویزوں کی گنجائش بھی موجود ہے، عام طور پر یہ ویزے 3 سے 6 سال تک کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔اس پروگرام کے تحت ملازمین کی خدمات حاصل کرنے والی کمپنیوں کو عام طور پر 1700 سے 4500 ڈالر تک فیس ادا کرنا ہوتی ہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اس رقم کو بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دیا تھا، جسے اس وقت کی عدالت نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔تاہم نئی فیس امریکا میں پہلے سے تعلیمی ویزے پر موجود غیرملکی شہریوں کو جاری کیے جانے والے بعض نئے ایچ-ون بی ویزوں پر لاگو نہیں ہوگی۔ موجودہ ایچ-ون بی ویزوں کی تجدید بھی اس فیس سے مستثنیٰ ہوگی۔ٹرمپ اور ایچ-ون بی پروگرام کے دیگر ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض کمپنیاں اس پروگرام کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی ملازمین کی جگہ کم اجرت پر غیرملکی کارکنوں کو بھرتی کرتی ہیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق فروری کے آخر تک تقریباً 70 کمپنیوں نے 85 ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر کی فیس ادا کی تھی۔ایچ ون بی ویزے کی قیمت ایک لاکھ ڈالر مقرر، امریکا کے گولڈ کارڈ ویزے کے لیے کتنی رقم دینی ہوگی؟