نیویارک (25 اگست 2026): اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔اقوامِ متحدہ نے پیر کے روز پیشکش کی ہے کہ وہ کھاد (فرٹیلائزر) کی نقل و حمل میں سہولت فراہم کرے گا، جو ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹ سے متاثر ہوئی ہے۔یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک پریس بریفنگ میں کہا ’’اس کا مقصد سادہ ہے: فوری خطرات کو کم کرنا، زیادہ منظم اور قابلِ پیش گوئی نقل و حمل کی حمایت کرنا، اور سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے لیے ضروری اعتماد کی بحالی میں مدد دینا۔‘‘ڈاک کے ذریعے ووٹنگ، سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے حق میں بڑا فیصلہانھوں نے زور دے کر کہا کہ اقوامِ متحدہ آبنائے سے گزرنے کی ’’اجازت نہیں دے گا‘‘ اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں کے ’’حقوق یا ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی کرے گا۔‘‘اس کی بہ جائے عالمی ادارہ ایک ’’غیر جانب دار سہولت کار‘‘ کے طور پر کام کرے گا، جو کھاد اور متعلقہ مصنوعات لے جانے والے بحری جہازوں کی رجسٹریشن اور ان کی تصدیق کرے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ یقیناً یہ اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب اس تنازع میں شامل تمام ممالک اس طریقۂ کار کو قبول کرنے پر رضامند ہوں۔‘‘خیال رہے کہ ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت روک دی ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف تیل اور قدرتی گیس کی عالمی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کی ہے بلکہ کھاد سمیت دیگر اہم اجناس کی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی ہے۔انتونیو گوتریس نے مارچ میں اس معاملے پر بات چیت کا آغاز کیا تھا، انھوں نے کہا کہ رابطہ کاری کا طریقۂ کار عمان سے چلایا جائے گا جو آبنائے کے جنوبی جانب ایران کے مقابل واقع ہے۔ دوسری طرف تہران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی امریکا اور خطے کے دیگر ممالک مخالفت کرتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ آبنائے پر ان کا ’’مکمل کنٹرول‘‘ ہے، اور انھوں نے یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے امریکی علاقہ ہے، جب کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت بدستور رکی ہوئی ہے۔