امریکی ٹیرف کے جواب میں کینیڈا کا جوابی وار

Wait 5 sec.

اوٹاوا : امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے 50 فیصد ٹیرف کے ردعمل میں کینیڈا نے بھی اس پر جوابی ٹیرف لگانے  کا اعلان کردیا۔اوٹاوا میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ اب کینیڈا بھی 8 ستمبر سے امریکا پر جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ اسٹیل، ڈیری، گھریلو آلات، الیکٹرانکس سمیت امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد ہوں گے، امریکا کینیڈا کو نقصان پہنچانے اور تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔مارک کارنی کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والے شدید تجارتی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد دونوں دیرینہ تجارتی شراکت داروں اور اتحادیوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق نیوز کانفرنس سے خطاب میں مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا امریکی نئے ٹیرف کا "ڈالر بہ ڈالر” جواب دے گا تاکہ کینیڈین کارکنوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔مارک کارنی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اہم نہ امریکا کی پیشکش قبول کرسکتے اور نہ ہی امریکی مطالبات مانیں گے، کینیڈا کی خودمختاری پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کریں گے، امریکا نے بہت زیادہ مطالبات کیے اور پیشکش بہت کم کی۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیرف سے کینیڈا کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تقریباً 20ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات متاثر ہوں گی، ان شعبوں میں شراب، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے، فشنگ راڈز اور ہاکی کا سامان شامل ہے۔