نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال کو جنسی زیادتی کے معاملے میں دو ہفتے کے اندر سرینڈر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر تیج پال مقررہ مدت کے اندر سرینڈر کر دیتے ہیں تو ان کی عرضی پر 22 ستمبر کو سماعت کی جائے گی۔ تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 10 سال کی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔یہ معاملہ 2013 کا ہے، جب ترون تیج پال پر گوا کے ایک لگژری ہوٹل کی لفٹ میں اپنی ایک جونیئر خاتون ساتھی کے ساتھ جنسی زیادتی اور عصمت دری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ شکایت موصول ہونے کے بعد گوا پولیس نے ان کے خلاف عصمت دری سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ نومبر 2013 میں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔عصمت دری معاملہ: ترون تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنجاس معاملے میں طویل قانونی کارروائی کے بعد مئی 2021 میں مپوسا کی سیشن عدالت نے ثبوتوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے ترون تیج پال کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ نچلی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف گوا حکومت نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔6 اگست 2026 کو بامبے ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے ترون تیج پال کو قصوروار قرار دیا۔ہائی کورٹ نے انہیں مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی اور جرمانہ بھی عائد کیا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ ترون تیج پال نے 20 اگست کو سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے اور 10 سال کی سزا کو چیلنج کیا۔ ان کی جانب سے عدالت سے سزا پر روک سمیت دیگر قانونی راحت کی درخواست کی گئی ہے۔جنسی استحصال معاملہ: ترون تیج پال کو سنائی گئی 10 سال قید کی سزا، ’تہلکہ‘ کے سابق مدیر نے سپریم کورٹ جانے کا کیا فیصلہدوسری جانب گوا حکومت نے بھی اس معاملے میں سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ حکومت نے 18 اگست کو دائر اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 10 سال کی سزا بھی کم ہے اور سزا میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔سپریم کورٹ کی جانب سے سرینڈر کی ہدایت کے بعد اب تیج پال کو دو ہفتے کے اندر متعلقہ حکام کے سامنے خودسپردگی کرنا ہوگی۔ عدالت نے کہا ہے کہ سرینڈر کے بعد ان کی جانب سے دائر درخواست پر 22 ستمبر کو سماعت کی جائے گی۔ اس طرح معاملے میں اگلی اہم پیش رفت سپریم کورٹ کی 22 ستمبر کی سماعت کے دوران متوقع ہے۔