’ایک ایک پیسہ تجوری میں پہنچنا چاہیے‘، بانکے بہاری مندر میں چندہ کی ہیرا پھیری سے سپریم کورٹ ناراض

Wait 5 sec.

ورنداون کے شری بانکے بہاری مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے جانے والے چندہ میں مبینہ خرد برد اور رقم غلط طریقے سے نکالے جانے کے الزامات پر سپریم کورٹ نے منگل کو سخت موقف اختیار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح ایک عرضی پر سماعت کے دوران ہدایت دی کہ عقیدت مندوں کی جانب سے دیا گیا ایک ایک پیسہ یا تو مندر کی چندہ پیٹیوں میں پہنچے یا آن لائن ذرائع سے براہ راست مندر کے خزانے میں جمع ہو۔ عدالت نے کہا کہ چندہ کی رقم کو کسی بھی طرح اِدھر اُدھر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے مندر کے کام کاج کی نگرانی کر رہی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ سینئر وکیل منندر سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ معاملے میں انتہائی سنگین صورت حال سامنے آئی ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے تصاویر اور ایک ویڈیو بھی پیش کی۔ منندر سنگھ نے بتایا کہ ویڈیو میں 3 افراد ’گولک‘ یعنی روایتی چندہ پیٹی کے سامنے کھڑے نظر آ رہے ہیں، جو عقیدت مندوں سے رقم لے کر اسے اپنی پلاسٹک کی تھیلیوں میں ڈال رہے ہیں۔اس معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ چندے کی ہر رقم چندہ پیٹی یا آن لائن ذرائع سے مندر کے خزانے تک پہنچنی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ سیوایتوں یا کسی دوسرے شخص کی جانب سے اس میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے تو اسے انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ عدالت نے مندر کی انتظامی کمیٹی کو مندر کے خزانے کے نظام میں شفاف طریقۂ کار نافذ کرنے کی بھی ہدایت دی۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں ٹھاکر شری بانکے بہاری جی مہاراج مندر کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے دائر عرضیوں پر سماعت کر رہا ہے۔ عدالت کی ہدایات کا مقصد مندر میں آنے والے چندہ کی رقم کے جمع کرنے اور اس کے انتظام میں شفافیت یقینی بنانا ہے، تاکہ عقیدت مندوں کی جانب سے دی گئی رقم کا مکمل حساب مندر کے سرکاری خزانے میں درج ہو۔