انقرہ (22 اگست 2026): ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے آفس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کے غلط بیانات اس کی بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ترک صدر کے آفس نے بیان میں کہا کہ نتن یاہو کے دفتر کے غلط بیانات جنگی جرائم پر احتساب سے بچنے کی کوشش ہیں، انقرہ کو خطرے کے طور پر پیش کرنا نیتن یاہو کا سستا سیاسی ہتھکنڈا اور انتخابی مہم کا حصہ ہے۔ترک صدر آفس نے نیتن یاہو کے بیانات کو ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف سیاسی مہم کا حصہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعے کے روز ترک صدر رجب طیب اردوان کو ’’یہود مخالف آمر‘‘ قرار دیا تھا اور عزم ظاہر کیا کہ اسرائیل ’’خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ترکی کی کوششوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گا۔‘‘ترکیہ کا بڑا فیصلہ، نیتن یاہو کے عالمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل شام نے الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیل نے ملک کے شمال میں، ترک سرحد سے مختصر فاصلے پر واقع ایک فضائی اڈے پر بمباری کی ہے۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے بھی بالواسطہ طور پر اس حملے کا اعتراف کیا تھا۔نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ترکی وہاں ایک فوجی موجودگی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ترکی نے اس مقام کا دورہ کرنے کی تردید کی ہے۔جمعہ کو ترکیہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے عالمی گرفتاری وارنٹ پر انٹرپول سے رابطہ کیا تھا، ترک وزارت انصاف نے انٹرپول کو نیتن یاہو کے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی۔