گجرات کے سورت میں ممبئی-احمدآباد وندے بھارت ایکسپریس پر پتھراؤ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹرین نمبر 22961 وندے بھارت ایکسپریس پر منگل کی شام 6:30 سے 6:45 بجے کے درمیان پتھر پھینکے گئے۔ اسی ٹرین میں اتر پردیش کی گورنر اور گجرات کی سابق وزیر اعلیٰ آنندی بین پٹیل بھی سفر کر رہی تھیں۔ وہ ٹرین کی ایگزیکٹیو کوچ میں تھیں۔ رپورٹس کے مطابق پتھراؤ سے کوچ نمبر 6 اور 10 کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ حالانکہ اس واقعہ میں ان کے یا کسی دیگر مسافر کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔Surat: Stones were pelted at the Mumbai-Ahmedabad Vande Bharat Express (Train No. 22961) near Utran station in Surat. Uttar Pradesh Governor Anandiben Patel was travelling on the train and remained safe as she was in the Executive Coach.The incident occurred between Utran and… pic.twitter.com/CdrHBk6GB1— IANS (@ians_india) August 25, 2026پتھراؤ معاملے میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے۔ فی الحال معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ ریلوے پولیس کے ساتھ گجرات پولیس بھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مغربی ریلوے کے مطابق وندے بھارت ایکسپریس پر پتھراؤ کا واقعہ اُتران اور کوساڈ کے درمیان پیش آیا، جس کی وجہ سے سی-6 اور سی-10 کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد آر پی ایف کی ٹیم موقع پر پہنچی اور ریلوے ٹریک کے پاس سے تقریباً 30 سال کے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا۔رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا کہ گرفتار مشتبہ شخص شدید نشے میں تھا۔ پولیس اور آر پی ایف کی ٹیم فی الحال اس کی شناخت اور واقعہ کے پیچھے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے اس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ دوسری جانب پتھراؤ کے واقعہ کے بعد ریلوے افسران نے علاقے میں ریلوے ٹریک کے آس پاس سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ آر پی ایف اور جی آر پی کے جوان جائے وقوع اور آس پاس کے علاقوں میں مزید تحقیقات میں مصروف ہیں۔اجین سے اندور جا رہی وندے بھارت ٹرین پر شدید پتھراؤ، نصف درجن کوچ کے شیشے ٹوٹےواضح رہے کہ وندے بھارت ٹرین پر پتھراؤ کا یہ واقعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل 23 اگست کو بھی پٹنہ-گومتی نگر وندے بھارت ایکسپریس پر پتھراؤ کا واقعہ سامنے آیا تھا، جس کی وجہ سے ٹرین کی ایک کھڑکی کو نقصان پہنچا تھا۔ زونل ریلوے کے کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 6:40 بجے پیش آیا جب ٹرین بہٹا اسٹیشن کے پاس سے گزر رہی تھی۔ واقعہ کے بعد ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کر دی۔ بعد میں ریلوے ایکٹ کی دفعہ 153 کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔