عصمت دری معاملے میں قصوروار ٹھرائے گئے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کے پھر جیل سے باہر آنے پر کانگریس نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ بی جے پی خواتین کے ریزرویشن اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر خواہ جتنا بھی مگر مچھ کا آنسو بہا لے، یہ سب سستے ٹی وی سیریل جیسا ڈرامہ ہے۔The BJP can keep shedding crocodile tears over women’s reservation and women’s empowerment. That is all cheap daily soap drama. We know exactly how rapist-friendly and anti-women this party is. Dera Sacha Sauda chief, Gurmeet Ram Rahim Singh - a convicted rapist serving a… https://t.co/awNy6IGlan— Pawan Khera ಪವನ್ ಖೇರಾ (@Pawankhera) August 25, 2026کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بی جے پی خواتین کے ریزرویشن اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر خواہ جتنا بھی مگرمچھ کے آنسو بہا لے، یہ سب سستے روزانہ چلنے والے ٹی وی سیریل جیسا ڈرامہ ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ پارٹی عصمت دری کرنے والوں کا ساتھ دینے والی اور خواتین مخالف ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ڈیرہ سچا سودا کا سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ، جو عصمت دری کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا جا چکا ہے اور 20 سال کی سزا کاٹ رہا ہے، کو 17ویں بار پیرول دی گئی ہے۔ 2017 میں گرفتاری کے بعد سے وہ پہلے ہی 450 سے زائد دن جیل سے باہر گزار چکا ہے۔‘‘ اپنی پوسٹ کے آخر میں پون کھیڑا لکھتے ہیں کہ ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹیاں محفوظ رہیں تو اس ملک کو بی جے پی سے آزاد کریں۔‘‘واضح رہے کہ اگست 2017 میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد یہ 17ویں بار ہے جب رام رحیم جیل سے باہر آیا ہے۔ رواں سال وہ تیسری بار جیل سے باہر آیا۔ اس بار رام رحیم 21 روز کی فرلو پر روہتک کی سناریا جیل سے باہر آیا ہے۔ فرلو کے دوران وہ سرسا میں واقع اپنے ڈیرہ ہیڈکوارٹر میں رہے گا۔ عصمت دری کے معاملے میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد اسے غیرمعمولی طور پر کئی بار فرلو اور پیرول مل چکی ہے۔قتل معاملہ میں رام رحیم کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی، نوٹس جاریقابل ذکر ہے کہ رام رحیم کو مارچ میں پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ نے 2002 میں ایک صحافی کے قتل کے معاملے میں بری کر دیا تھا۔ اس معاملے میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے اسے قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد متاثرہ کے اہل خانہ نے سپریم کا رخ کیا تھا۔ 10 اگست کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت کے رویہ پر اہم تبصرہ کیا تھا۔ رام رحیم کے وکیل نے بتایا تھا کہ ہریانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل داخل نہیں کی ہے۔ اس بار چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ شاید ریاستی حکومت اپیل میں نہیں آئے گی۔