(25 اگست 2026): کھربوں روپے کی لاگت سے بنی ایکسپریس وے صرف 40 دن میں کئی مقامات پر دھنس گئی اور مسافروں کے لیے مسافروں کے لیے سفر خطرناک ہو گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق کثیر لاگت سے یہ ناقص سڑک بھارتی شہر کانپور میں بنائی گئی تھی۔ لکھنو ایکسپریس وے کی تعمیر پر 4200 کروڑ بھارتی روپے (پاکستانی ایک کھرب 39 ارب روپے) لاگت آئی تھی۔تاہم اپنی تعمیر کے صرف 40 روز کے اندر ہی مذکورہ ایکسپریس وے کم از کم پانچ مقامات پر دھنس چکی ہے اور آئے روز کسی نہ کسی مقام پر سڑک کے دھنسنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔4200 کروڑ سے بنی ایکسپریس وے پر سفر اب محفوظ نہیں، 5 مقامات پر سڑک دھنس گئیمذکورہ ایکسپریس وے کا افتتاح رواں برس 13 جولائی کو ہوا تھا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بڑے طمطراق اور دعووں کے ساتھ اس شاہراہ کا افتتاح کیا تھا۔14 جولائی سے اس پر گاڑیوں کی آمد و رفت شروع ہوئی تھی۔ تاہم ٹریفک شروع ہوتے ہی ایکسپریس وے ٹوٹنے اور دھنسنے لگا۔ 40 دن گزر جانے کے بعد ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب ایکسپریس وے کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ انڈر پاس کے قریب بنائی گئی نالی 24 گھنٹے بھی نہیں چل پائی اور مٹی بہہ جانے سے رین کٹ بن گئے۔جگہ جگہ سے شاہراہ کے دھنسنے پر تعمیراتی ایجنسی پی این سی نے ہفتہ کو عجلت میں مرمت کرائی تھی، لیکن یہ نالی اتوار کو ہی اکھڑ گئی۔ بچھایا گیا ڈامر بہہ گیا۔ اتنا ہی نہیں، ایک گاؤں کے سامنے بارش کے پانی سے سڑک کنارے کی مٹی بہہ جانے سے رین کٹ بن گیا۔دوسری جانب لکھنؤ ایکسپریس وے کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تعمیراتی ایجنسی نے اب رات کے وقت پیچ ورک اور دیگر مرمتی کام شروع کرا دیا ہے۔کثیر لاگت سے بنی ایکسپریس وے کی صرف 40 دن میں تباہ حالی کے باوجود ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے تعمیراتی کمپنی کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔