غزہ میں اسرائیلی بربریت کا سلسلہ جاری، دو بچوں سمیت مزید پانچ شہید

Wait 5 sec.

یروشلم: غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم پانچ افراد جام شہادت نوش کرگئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس کے زیرانتظام چلنے والی سول ڈیفنس ریسکیو سروس کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیر البلاح میں ایک خیمے پر بمباری کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید ہوئے۔سول ڈیفنس کے مطابق، جنوبی غزہ میں خان یونس کے شمال میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک 10 سالہ بچی بھی اپنی زندگی سے محروم ہوگئی۔اسرائیلی فوج نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسے ان واقعات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔سول ڈیفنس نے کہا کہ وسطی غزہ کی پٹی میں البریج پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک چار سالہ بچہ مارا گیا، اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک مکمل رہائشی بلاک کو نقصان پہنچا اور ایک ماں اور اس کے بچے کو دوسرے گھر کے ملبے کے نیچے سے ریسکیو کیا گیا ہے۔ریسکیو سروس نے اے ایف پی کو بتایا کہ خان یونس میں ایک اور فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر تین میزائل داغ کر اسے تباہ کردیا۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ”(غزہ کے باشندوں) کو بقا کے تمام ذرائع سے محروم کرنے کی مزید کوشش ہے۔اے ایف پی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ حماس کے ایک قریبی ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کی سہولت کو نشانہ بنایا ہے۔ٹرمپ اور قالیباف کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئیغزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں 1,288 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔