مدھیہ پردیش میں قبائلی طبقہ کے بچوں کی اموات معاملہ میں کانگریس نے آج مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رکن اسمبلی وکرانت بھوریا نے ایک پریس کانفرنس میں کچھ اعداد و شمار سامنے رکھے اور الزام عائد کیا کہ مرکز کی مودی حکومت قبائلی طبقہ کو پوری طرح سے نظر انداز کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں نقص تغذیہ اور بیماریوں سے 22 قبائلی بچوں کی موت ہو گئی، جو بیگا سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’یہاں گزشتہ 6 ماہ سے گھر پہنچنے والا کھانا بند ہے، یہاں سب سے قریبی پرائمری ہیلتھ سنٹر 20 کلومیٹر دور ہے، یہاں ’فاریسٹ رائٹس ایکٹ‘ کے تحت ملنے والے پٹّے خارج ہو چکے ہیں، افسران نے مطلع کیا ہے کہ یہاں 80 فیصد سے کم ٹیکہ کاری ہوئی ہے۔‘‘मध्य प्रदेश के बालाघाट में कुपोषण और बीमारियों से 22 आदिवासी बच्चों की मौत हो गई, जो बैगा समाज से आते हैं।⦿ यहां पिछले 6 महीने से घर पहुंचने वाला पोषण आहार बंद है⦿ यहां सबसे नजदीकी प्राथमिक स्वास्थ्य केंद्र 20 किलोमीटर दूर है⦿ यहां फॉरेस्ट राइट एक्ट के तहत मिलने वाले पट्टे… pic.twitter.com/BFWxzMQT42— Congress (@INCIndia) August 24, 2026حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے وکرانت بھوریا کہتے ہیں کہ ’’آج ملک میں قبائلی بچوں کی جان کی قیمت صرف 20 ہزار روپے ہے۔ حکومت کی طرف سے ہر کنبہ کو صرف 20 ہزار روپے دیے گئے، لیکن غلطی ان بچوں کی نہیں تھی۔ غلطی اس سسٹم کی تھی جس میں قبائلیوں کے ڈیولپمنٹ کے نام پر ہزاروں کروڑ روپے آتے ہیں، لیکن کسی کو نہیں پتہ کہ پیسا کہاں جاتا ہے؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’سب سے افسوسناک یہ ہے کہ ملک کی صدر اور مدھیہ پردیش کے گورنر خود قبائلی ہیں، پھر بھی مدھیہ پردیش میں نقص تغذیہ کے سبب 22 قبائلی بچوں کی موت ہو جاتی ہے۔‘‘आज देश में आदिवासी बच्चों की जान की कीमत सिर्फ 20 हजार रुपये है।सरकार की तरफ से हर परिवार को सिर्फ 20 हजार रुपये दिए गए, लेकिन गलती इन बच्चों की नहीं थी।गलती उस सिस्टम की थी, जिसमें आदिवासियों के विकास के नाम पर हजारों करोड़ रुपये आते हैं, लेकिन किसी को नहीं पता कि पैसा जाता… pic.twitter.com/5VMFcb7lcH— Congress (@INCIndia) August 24, 2026کانگریس رکن اسمبلی نے مدھیہ پردیش اسمبلی کے ایک اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اسمبلی میں سوال پوچھا تھا کہ ریاست کے قبائلی بلاکوں اور پروجیکٹس میں نقص تغذیہ کے خاتمہ کے لیے 2020 سے 2025 تک کتنا بجٹ دیا گیا اور اس میں سے کتنا خرچ ہوا؟ جواب میں جو کچھ پتہ چلا، وہ بے حد فکر انگیز ہے۔ حکومت نے مطلع کیا کہ نقص تغذیہ کے شکار بچوں کو ہر دن محض 12 روپے کی مقوی غذی دی جاتی ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’حکومت نے بتایا کہ محکمہ برائے ترقیٔ خواتین و اطفال نے قبائلی بلاکوں میں اس منصوبہ کے لیے الگ سے کوئی بجٹ کا انتظام نہیں کیا ہے۔ بازآبادکاری مرکز، جہاں بے حد کمزور اور سنگین طور سے کمزور بچوں کو لایا جاتا ہے، وہاں ان کے علاج اور غذائیت پر صرف 980 روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔‘‘मैंने मध्य प्रदेश विधानसभा में सवाल पूछा था- प्रदेश के आदिवासी ब्लॉकों और परियोजनाओं में कुपोषण निवारण के लिए 2020 से 2025 तक कितना बजट दिया गया और उसमें से कितना खर्च हुआ?जवाब में जो सामने आया, वह बेहद चिंताजनक है।⦿ सरकार ने बताया कि कुपोषित बच्चों को हर दिन सिर्फ 12 रुपए… pic.twitter.com/F37lIoYbTU— Congress (@INCIndia) August 24, 2026وکرانت بھوریا نے مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں کچھ قبائلی بچیوں کی موت کا معاملہ بھی میڈیا کے سامنے اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’گڑھ چرولی میں 3 بچیاں ٹرائبل ہاسٹل میں سو رہی تھیں، جہاں انھیں سانپ نے کاٹ لیا اور ان کی موت ہو گئی۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس ٹرائبل ہاسٹل میں بستر کا بھی انتظام نہیں تھا اور ایک ہی کمرے میں 70 سے زیادہ بچیاں زمین پر سوتی تھیں۔ اس حادثہ میں 6 بچیاں اسپتال میں داخل کروائی گئی تھیں، جن میں 3 بچیوں کی موت ہو گئی۔‘‘ ان کے مطابق فکر انگیز بات یہ ہے کہ گڑھ چرولی کے انچارج وزیر خود وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس ہیں، کیونکہ وہاں کانیں ہیں، تاکہ بڑے بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ایسے ہی حالات کے سبب ناسک میں طلبا کی بھوک ہڑتال جاری ہے، جس میں ان کا مطالبہ ہے کہ ٹرائبل ہاسٹل کی حالت میں بہتری لائی جائے۔महाराष्ट्र के गढ़चिरौली में 3 बच्चियां ट्राइबल हॉस्टल में सो रही थीं, जहां उन्हें सांप ने काट लिया और उनकी मौत हो गई।चौंकाने वाली बात ये है कि उस ट्राइबल हॉस्टल में बिस्तर की भी व्यवस्था नहीं थी और एक ही कमरे में 70 से ज्यादा बच्चियां जमीन पर सोती थीं।इस घटना में 6 बच्चियां… pic.twitter.com/cHXNLaOVU0— Congress (@INCIndia) August 24, 2026پریس کانفرنس میں کانگریس لیڈر نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 2 سالوں میں مہاراشٹر کے ہاسٹلز کے اندر روزانہ 2-1 کی موت ہوئی ہے۔ گویا کہ گزشتہ 2 سالوں میں 600-550 بچے ہاسٹل میں جان گنوا چکے ہیں، لیکن مہاراشٹر حکومت اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہی ہے۔ وکرانت بھوریا نے اس پریس کانفرنس میں کچھ مطالبات بھی رکھے، جو اس طرح ہیں:بالاگھاٹ، گڑھ چرولی سے جڑے معاملوں کی جانچ کے لیے خصوصی کمیٹی بنائی جائےان معاملوں کے قصورواروں کے خلاف فوری اثر سے سخت کارروائی کی جائےہر قبائلی ہاسٹل کا ’سیفٹی آڈٹ‘ کرایا جائے، تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوںरिपोर्ट बताती है कि पिछले दो साल में महाराष्ट्र के हॉस्टलों के अंदर हर दिन 1-2 बच्चों की मौत हुई है।मतलब पिछले दो साल में 550-600 बच्चे हॉस्टल में जान गंवा चुके हैं, लेकिन महाराष्ट्र सरकार ध्यान ही नहीं दे रही है।: @INCAdivasi के चेयरमैन @VikrantBhuria जी दिल्ली pic.twitter.com/fM3P9PKZNP— Congress (@INCIndia) August 24, 2026وکرانت بھوریا نے واضح لفظوں میں کہا کہ اس ملک پر سب سے پہلا حق قبائلیوں کا ہے، لیکن آج پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ قبائلیوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی ہمارا ملک ترقی یافتہ ہے؟ کیا صحیح معنوں میں ہمارا ملک سب کے لیے آزادی ہے؟हमारी मांग:• बालाघाट, गढ़चिरौली से जुड़े मामलों की जांच के लिए विशेष कमेटी बनाई जाए• इन मामलों के दोषियों के खिलाफ तत्काल प्रभाव से सख्त कार्रवाई की जाए• हर आदिवासी हॉस्टल का 'सेफ्टी ऑडिट' कराया जाए, ताकि ऐसी घटनाएं दोबारा ना होइस देश पर सबसे पहला अधिकार आदिवासियों का… pic.twitter.com/dBR8qzyWgi— Congress (@INCIndia) August 24, 2026