جے پی ایس سی تنازعہ: سی بی آئی تحقیقات کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے مرکز اور جھارکھنڈ حکومت کو بھیجا نوٹس

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ میں 24 اگست کو جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کی کمبائنڈ سول سروسز پریلمنری امتحان، 2025 میں مبینہ گڑبڑی کی آزادانہ سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے اس معاملے پر سماعت کی اور مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا۔عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ منن کمار مشرا نے بتایا کہ طلبا امتحان میں ہوئی دھاندلی کے خلاف ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ مشرا نے دلیل دی کہ ریاستی حکومت نے امتحان منسوخ کر دیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے فوراً اس فیصلے پر روک لگا دی، جس سے ریاستی حکومت نے بالواسطہ طور پر اس چیلنج کی حمایت کی۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ معاملے کی جانچ یا تو سی بی آئی کو سونپی جائے یا پھر سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کو۔سی جے آئی سوریہ کانت نے عدالت میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ کسی سابق جج کو جانچ کی ذمہ داری نہیں سونپی جا سکتی۔ کسی سابق جج کو کیسے، یہ عام جانچ نہیں ہے۔ یہ ایک تحقیقات ہے۔ اس میں فارنسک جانچ یا کچھ اور کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ تمام کام کوئی ایجنسی ہی کر سکتی ہے۔ جواب میں مشرا نے کہا کہ اسی لیے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ طلبا احتجاج کر رہے ہیں۔ان دلیلوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ نوٹس جاری کرتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے مرکزی حکومت، جھارکھنڈ حکومت، جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) اور دیگر سے جواب طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا۔ سی جے آئی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا عدالتی بھرتی کے امتحانات بھی ریاستی پولیس فورس کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں، جس پر مشرا نے ’ہاں‘ میں جواب دیا۔اعلیٰ عدالت نے کارکن ہری شرن دیوگن کی جانب سے وکیل ستیہم سنگھ راجپوت کے ذریعہ دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ نوٹس جاری کیے۔ عرضی میں ریاستی حکومت سے سی بی آئی کو جانچ سونپنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری افسران اور امتحانی ایجنسیوں کے خلاف غیر جانبدارانہ جانچ یقینی بنائی جا سکے۔ یہ جانچ اس بنیاد پر مانگی گئی ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے امتحان منسوخ کیے جانے سے منظم بدعنوانی کا پردہ فاش کرنے کی ضرورت ختم نہیں ہو جاتی۔دیگر عرضیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ چھیڑ چھاڑ کو روکنے کے لیے مادی اور ڈیجیٹل شواہد کو محفوظ رکھا جانا چاہیے، جس میں اصل اور امیدوار کے پاس موجود او ایم آر کاربن کاپیاں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سرور آڈٹ لاگز شامل ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ’’ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت یہ رِٹ عرضی عوامی مفاد میں دائر کی گئی ہے، جس میں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے اشتہار نمبر 2026/1 کے تحت 19 اپریل 2026 کو منعقد جھارکھنڈ مشترکہ سول سروس ابتدائی مسابقتی امتحان 2025 کی پاکیزگی، غیر جانبداری، شفافیت اور اعتبار کو لے کر سنگین خدشات کے پیش نظر اس عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔‘‘سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد اب مرکزی حکومت، جھارکھنڈ حکومت اور متعلقہ فریقوں کا جواب اہم ہوگا۔ عدالت یہ دیکھے گی کہ جے پی ایس سی کے 2025 کے ابتدائی امتحان میں لگائے گئے بے ضابطگی کے الزامات پر آزادانہ جانچ کی ضرورت ہے یا نہیں۔