امریکا کی اقتصادی جنگ، ایرانی رہنما سر جوڑ کر بیٹھ گئے

Wait 5 sec.

تہران (23 اگست 2026): ہتھیاروں کی جنگ کے بعد امریکا کی اقتصادی جنگ سے بھی نمٹنے کے لیے ایرانی رہنما سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ایران میں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ نے اہم ملاقات کی ہے، جس میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی جنگ کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ملاقات میں تینوں اداروں کے سربراہان نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف ریاستی اداروں کے درمیان بہتر اور مؤثر رابطہ قائم کیا جائے تاکہ امریکی معاشی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور عوام کی زندگیوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو روکا جا سکے۔اقتصادی جنگ میں امریکا سے راستے الگ نہ کرنے والے ممالک کو اپنا دشمن سمجھیں گے، میجر جنرل محسن رضائیملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے نتیجے میں معاشرے کے کمزور طبقات کو ضروری مدد فراہم کی جا سکے اور ملک کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔President Masoud Pezeshkian hosted a meeting of the heads of Iran’s three branches of state in Tehran on Saturday, state news agency IRNA reported.Parliament Speaker Mohammad Bagher Ghalibaf and judiciary chief Gholam-Hossein Mohseni-Ejei joined Pezeshkian at the presidential… pic.twitter.com/XAKtvKUUR1— Iran International English (@IranIntl_En) August 22, 2026ایرانی قیادت نے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کے درمیان تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کو اہم قرار دیا۔