امریکی اقدامات سے ایران سرینڈر نہیں ہوگا، لیون پینیٹا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (23 اگست 2026): سابق امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف چھیڑی گئی معاشی جنگ سے امریکا کو کامیابی نہیں ملے گی۔جمعہ کو سی این این کو انٹرویو میں لیون پینیٹا نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ اقدامات تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکیں گے، ایران آبنائے ہرمز بند کر کے امریکا پر اقتصادی دباؤ بڑھا رہا ہے۔صدر اوباما کے دور میں وزیر دفاع رہنے والے سابق افسر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو غذائی اجناس اور طبی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالنا جنگی جرم ہوگا۔انھوں نے کہا یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم مخالف طاقتوں کے ایک محور سے نمٹ رہے ہیں، چین، روس، شمالی کوریا، ایران، یہ سب ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں، یہ سب مل کر کام کر رہے ہیں۔ایرانی ہیکرز کا کامیاب حملہ، برطانیہ میں پاور پلانٹ بندپینیٹا نے کہا ’’خصوصاً شمالی کوریا روس کے ساتھ ایسا کر رہا ہے۔ وہ روس کو 10,000 جنگجو فراہم کر چکا ہے اور اب ڈرونز کے ساتھ مزید یونٹس بھی فراہم کر رہا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ امریکا، اور صدر بھی، ہمارے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے ایک ایسی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں جو سر کے بل کھڑی ہے، وہ ہمارے اتحادیوں پر حملہ کرتے ہیں اور اسی وقت ہمارے دشمنوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘لیون پینیٹا نے کہا ’’انھوں نے گزشتہ ہفتے کم جونگ اُن کے بارے میں بات کرتے ہوئے جنوبی کوریا میں ہماری فوجی مشقیں منسوخ کرنے کی بات کی۔ امریکا کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ امریکا کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، یہ چاروں ممالک دشمن ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ دشمنوں ہی جیسا سلوک کرنا ہوگا۔‘‘انھوں نے خبردار کیا کہ اگر سر کے بل کھڑی اس حکمت عملی کو تبدیل نہیں کیا گیا تو امریکا کمزور ہو جائے گا۔ دیکھیے، دوسری عالمی جنگ کے بعد، خواہ ہمارے پاس ڈیموکریٹ صدر رہا ہو یا ریپبلکن صدر، سب بنیادی اصولوں پر متفق رہے ہیں کہ ہمیں دنیا میں قیادت فراہم کرنی ہے، ہمیں مضبوط اتحاد قائم کرنے ہیں، ہمیں ایک مضبوط فوج برقرار رکھنی ہے، اور ہمیں آمروں کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ آپ آمروں کو خوش نہیں کرتے۔ لیکن ٹرمپ نے اس کے برعکس کیا ہے۔پینیٹا نے کہا ٹرمپ عالمی قیادت سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، انھوں نے بنیادی طور پر ہمارے اتحادوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انھیں کمزور کیا ہے اور انھوں نے آمروں کے سامنے مزاحمت نہیں کی، خواہ وہ پیوٹن ہو، شی جن پنگ ہو یا کم جونگ اُن۔ پینیٹا نے مزید کہا اب ایران کے معاملے میں بھی امکان یہی ہے کہ ایک سخت گیر حکومت اس جنگ کے نتیجے میں اپنی طاقت بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ چناں چہ تقریباً ہر محاذ پر امریکا تنہا کارروائی کر رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں دنیا میں امریکا کمزور دکھائی دیتا ہے۔انھوں نے کہا ایران جنگ میں دنیا کو امریکا کا ایک اور جنگ ہارنے کا امکان دکھائی دے رہا ہے، ایسا ہونا امریکا کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گا، جو انتہائی خطرناک ہے۔