چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے عوام کو فکر میں ڈال دیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اس کے لیے مرکز کی مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں، کیونکہ بڑی مقدار میں چینی تیار کرنے میں استعمال ہونے والے گنے سے ایتھنول تیار کیا جا رہا ہے۔ اس ایتھنول کا استعمال ای-20 پٹرول بنانے میں ہو رہا ہے۔ ان الزامات کے درمیان مرکزی حکومت نے خام چینی کی درآمد کے قوانین میں تبدیلی کر دی ہے۔ اب ہر 2 ماہ میں ریفائنڈ چینی کی فروخت لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب ٹی آر کیو یعنی ’ٹیرف ریٹ کوٹا‘ کے تحت درآمد کی گئی خام چینی کو مقررہ تاریخ تک فروخت کرنے کے بجائے ہر شپمنٹ کے لیے الگ الگ مدت مقرر ہوگی۔راج بھر کی پارٹی چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کرے گیحکومت کی ہدایت کے مطابق اب درآمد کنندہ کو بل آف انٹری داخل کرنے کی تاریخ سے 2 ماہ کے اندر خام چینی کو ریفائن کر کے سفید چینی کی شکل میں گھریلو بازار میں فروخت کرنا ہوگا۔ پہلے اس کے لیے 31 اکتوبر 2026 کی ایک مقررہ آخری تاریخ تھی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے 10 لاکھ ملین ٹن خام چینی کے ٹی آر کیو درآمد سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔واضح رہے کہ وزارت برائے امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی کو چینی کی خوردہ قیمت 48.18 روپے فی کلو تھی، جبکہ 20 اگست تک یہ بڑھ کر 55.70 روپے فی کلو پہنچ گئی۔ مطلب صاف ہے کہ ایک ماہ میں چینی کی قیمت میں 7.52 روپے فی کلو یعنی تقریباً 15.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں اس تیزی نے مہنگائی کا سامنا کر رہی عوام کے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔