غزہ پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم کو وینس فیسٹیول میں پیش کیا جائے گا

Wait 5 sec.

غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی شہادت کے پسِ پردہ مبینہ نظام پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم نازا (NAZA) کو آئندہ ماہ وینس فلم فیسٹیول میں پیش کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق فلم فیسٹیول کے منتظمین نے بتایا کہ نازا آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلسطینی دستاویزی فلم نو ادر لینڈ کے ہدایت کاروں یووال ابراہم اور ریچل سور کی نئی فلم ہے، جو گولڈن لائن ایوارڈ کے مقابلے میں شامل 21 فلموں میں واحد دستاویزی مووی ہے۔فیسٹیول کی ویب سائٹ پر جاری خلاصے سے پتہ چلتا ہے کہ فلم غزہ میں فلسطینی شہریوں کی شہادت کے لیے اسرائیل کے مبینہ منصوبہ بندی پر مبنی نظام کا جائزہ لیتی ہے۔فلم کو 10 ستمبر کو ہدایت کاروں، پروڈیوسرز، دی گارڈیئن کے صحافیوں اور سرکاری وفد کی موجودگی میں پیش کیا جائے گا۔نازا کو دی گارڈیئن اور جیمز ولسن کی کمپنی جے ڈبلیو فلمز نے پروڈیوس کیا ہے، جبکہ آسکر ایوارڈ یافتہ فلم دی زون آف انٹرسٹ کے ہدایت کار جوناتھن گلیزر اس کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔رپورٹ کے مطابق نازا ایک اسرائیلی فوجی مخفف ہے، جسے اسرائیلی انٹیلی جنس مبینہ طور پر فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد کے لیے استعمال کرتی ہے۔بشریٰ انصاری نے سنی دیول کی ’بٹوارہ 1947‘ کو بچکانہ فلم قرار دے دیاواضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے میں 1221 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔اس کے بعد اسرائیلی فوج کی غزہ میں شروع کی گئی کارروائی میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔